9 سال کی محبت کے بعد شادی ، 2 ماہ بعد ہی دلہن نے دولہا کو موت کے گھاٹ اتار دیا دنیا Roze News
دنیا

9 سال کی محبت کے بعد شادی ، 2 ماہ بعد ہی دلہن نے دولہا کو موت کے گھاٹ اتار دیا

9 سال کی محبت کے بعد شادی ، 2 ماہ بعد ہی دلہن نے دولہا کو موت کے گھاٹ اتار دیا

9 سال کی محبت کے بعد شادی ، 2 ماہ بعد ہی دلہن نے دولہا کو موت کے گھاٹ اتار دیا

بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر بریلی سے سامنے آنے والا یہ واقعہ ایک ایسی محبت کی کہانی کا انجام ہے جو 9 سال تک چلی، شادی پر منتج ہوئی، مگر صرف 2 ماہ بعد  موت کے گھاٹ اتر گئی۔

یہ کہانی ہے 33 سالہ جتیندر کمار یادو اور اس کی اہلیہ جیوتی کی، جن کی شادی 25 نومبر 2025 کو ہندو رسم و رواج کے مطابق، دونوں خاندانوں کی رضامندی سے ہوئی تھی۔

کوئی یہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ جس رشتے کی بنیاد محبت پر رکھی گئی ہو، وہ اتنی جلدی نفرت اور تشدد میں بدل جائے گا۔

پولیس کے مطابق، شادی کے چند ہی ہفتوں بعد میاں بیوی کے تعلقات میں دراڑیں پڑنے لگیں۔

بنیادی وجہ پیسوں کا تنازعہ تھا، الزام ہے کہ جتیندر نے اپنی بیوی جیوتی کے بینک اکاؤنٹ سے 20 ہزار روپے نکلوائے اور یہ رقم آن لائن جوئے میں ہار گیا

یہ نقصان جیوتی کے لیے ناقابلِ برداشت تھا، اس کے بعد بات بات پر جھگڑے ہونے لگے، تلخی بڑھتی گئی اور محبت کا رشتہ بداعتمادی میں بدلنے لگا۔

26 جنوری کو جیوتی نے اپنے شوہر سے گمشدہ رقم کے بارے میں سوال کیا۔ بات بڑھتے بڑھتے جھگڑے اور پھر ہاتھا پائی تک جا پہنچی۔

اسی دوران جیوتی نے اپنے والد کالی چرن، والدہ چمیلی اور بھائی دیپک کو فون کر کے گھر بلا لیا۔

یہ مکان بریلی کے عزت نگر علاقے کی گرِجا شنکر کالونی میں واقع تھا، جہاں شادی کے بعد سے یہ جوڑا کرائے پر رہ رہا تھا۔

پولیس کی تفتیش کے مطابق، جیوتی کے والدین اور بھائی کے پہنچنے کے بعد جھگڑا شدت اختیار کر گیا۔

الزام ہے کہ والد، والدہ اور بھائی نے جتیندر کے ہاتھ پاؤں پکڑ لیے، جبکہ جیوتی نے اپنے شوہر کا گلا دبایا۔

جب جتیندر نے حرکت بند کر دی اور جان چلی گئی، تو معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا۔

قتل کے بعد ملزمان نے جرم کو چھپانے کی کوشش کی، پولیس کے مطابق، جتیندر کی لاش کو ایک مفلر کی مدد سے کھڑکی یا وینٹی لیٹر کی گرِل سے لٹکا دیا گیا تاکہ یہ منظر خودکشی لگے۔

پڑوسیوں کو بتایا گیا کہ جتیندر نے اپنے آپ کو پھانسی لگا کر جان دے دی ہے، پولیس کو بھی ابتدا میں یہی بتایا گیا ،چنانچہ موقع پر پہنچنے والی ٹیم نے موت کو مشتبہ خودکشی تصور کیا۔

کہانی اس وقت پلٹی جب جتیندر کے بھائی اجے کمار نے پولیس میں شکایت درج کرائی، اس کی بنیاد پر پوسٹ مارٹم کرایا گیا، جس کی رپورٹ نے سب کچھ بدل دیا۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ موت کی وجہ پھانسی نہیں بلکہ گلا دبانا (Strangulation) تھی، یوں خودکشی کا ڈرامہ بے نقاب ہو گیا۔

پہلے پولیس نے معاملہ خودکشی پر اکسانے کا درج کیا تھا، مگر پوسٹ مارٹم کے بعد دفعات بدل کر قتل کی کر دی گئیں، تحقیقات تیز کی گئیں اور جیوتی، اس کے والدین کو گرفتار کر لیا گیا۔

جیوتی کا بھائی دیپک بھی نامزد ملزم ہے، جس کی گرفتاری کے لیے پولیس چھاپے مار رہی ہے۔

پولیس کے مطابق، تفتیش کے دوران جیوتی نے اپنا جرم قبول کر لیا، اس نے بتایا کہ وہ اور جتیندر طالب علمی کے زمانے سے ایک دوسرے کو جانتے تھے۔

جتیندر بریلی کے انڈین ویٹرنری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (IVRI) میں کنٹریکٹ پر کام کرتا تھا، جبکہ جیوتی اتر پردیش روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن میں کنڈکٹر تھی۔

اس نے اعتراف کیا کہ مالی جھگڑوں نے اسے شدید غصے میں مبتلا کر دیا اور اسی غصے میں اس نے یہ انتہائی قدم اٹھایا۔

بریلی کا یہ واقعہ صرف ایک قتل نہیں، بلکہ ایک تلخ سبق ہے کہ غصہ، لالچ اور تشدد مل کر محبت کی سب سے مضبوط کہانی کا گلا کیسے گھونٹ دیتے ہیں۔

Exit mobile version