مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں بعض اختلافات خاموش ہوتے ہیں مگر ان کے اثرات نہایت گہرے اور دور رس ہوتے ہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ابھرتا ہوا اختلاف بھی اسی نوعیت کا ہے۔ بظاہر دونوں ممالک آج بھی اتحادی دکھائی دیتے ہیں، مگر پس پردہ ان کے درمیان مشرق وسطی کی قیادت، علاقائی اثر و رسوخ، معیشت، دفاع اور سلامتی کے میدان میں ایک سنجیدہ مسابقت جاری ہے، جو پورے خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر رہی ہے۔
سعودی عرب طویل عرصے سے خود کو عالمِ عرب کا فطری قائد، حرمین شریفین کا محافظ اور مسلم دنیا کی مرکزی قوت سمجھتا آیا ہے۔ اس کے برعکس متحدہ عرب امارات نے گزشتہ دو دہائیوں میں خود کو ایک جدید، معاشی اور اسٹریٹجک طاقت کے طور پر منوایا ہے۔ دبئی اور ابوظہبی نے تجارت، بندرگاہوں، سرمایہ کاری، دفاع اور خارجہ پالیسی میں غیر معمولی پیش رفت کی، جس کے نتیجے میں یو اے ای محض ایک خلیجی ریاست نہیں رہا بلکہ ایک فعال علاقائی کھلاڑی بن چکا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں دونوں ممالک کے مفادات آہستہ آہستہ ایک دوسرے سے ٹکرانے لگے۔ ابتدا میں محمد بن سلمان اور محمد بن زاید کے تعلقات مثالی سمجھے جاتے تھے، مگر وقت کے ساتھ یہ واضح ہوا کہ دونوں رہنما ایک ہی خطے میں قائدانہ کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ سعودی وژن 2030 کے تحت ریاض نے خود کو علاقائی تجارتی و مالیاتی مرکز بنانے کی کوشش کی، جسے یو اے ای نے اپنے معاشی مفادات کے لیے ایک چیلنج کے طور پر دیکھا۔
یہ اختلاف صرف خلیج تک محدود نہیں رہا بلکہ مختلف ممالک میں پراکسی جنگ کے انداز میں سامنے آیا۔ یمن اس تنازعے کا سب سے نمایاں میدان ہے، جہاں دونوں ممالک ابتدا میں ایک ہی اتحاد کا حصہ تھے، مگر جلد ہی ان کے راستے جدا ہو گئے۔ سعودی عرب کا بنیادی ہدف اپنی جنوبی سرحد کا تحفظ، حوثیوں کا خاتمہ اور ایک متحد، سعودی نواز یمن تھا۔ اس کے برعکس متحدہ عرب امارات نے جنوبی یمن، ساحلی علاقوں، بندرگاہوں اور بحیرہ احمر کی اسٹریٹجک اہمیت پر توجہ مرکوز رکھی اور غیر ریاستی عناصر کے ذریعے اپنا کنٹرول قائم کرنے کی کوشش جاری رکھی۔
امارات نے جنوبی عبوری کونسل (STC) کی حمایت کی، جو عملاً یمن کی تقسیم کی حامی ہے۔ یہی نقطہ سعودی عرب اور یو اے ای کے درمیان سب سے بڑا اختلاف بن گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یو اے ای نے یمن کی جنگ سے عملی طور پر خود کو الگ کر لیا، جبکہ سعودی عرب اب بھی اس تنازعے کے سیاسی، عسکری اور اخلاقی بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔
ان دونوں ممالک کے درمیان یہ مسابقت لیبیا، سوڈان، صومالیہ اور افریقہ کے بعض دیگر ممالک میں بھی دیکھی جا سکتی ہے، جہاں بندرگاہوں، فوجی اڈوں، سیاسی اور معاشی اثر و رسوخ کے لیے دونوں ممالک بالواسطہ طور پر مقابلے میں ہیں۔ اسی طرح اسرائیل سے تعلقات کے معاملے پر بھی یو اے ای نے سعودی عرب پر سبقت حاصل کی اور ابراہام اکارڈ میںشمولیت اختیار کرلی، جس سے خطے میں طاقت کے توازن پر گہرے اثرات مرتب ہوئے۔
مستقبل میں مشرقِ وسطیٰ پر اس اختلاف کے اثرات خاصے سنگین ہو سکتے ہیں۔ خلیجی تعاون کونسل (GCC) پہلے ہی اندرونی اختلافات کا شکار ہے، اور سعودی-اماراتی مسابقت اسے مزید کمزور کر سکتی ہے۔ اس کا فائدہ امریکہ، اسرائیل اور دیگر علاقائی ممالک اٹھا سکتے ہیں، جو پہلے ہی خطے میں اپنے قدم مضبوط کرنے کی کوشش میں ہیں۔ اس صورتحال سے عرب دنیا کی اجتماعی آواز مزید بکھرنے کا خدشہ ہے۔
مسلم دنیا کے لیے یہ صورتحال ایک اور آزمائش ہے۔ مسلم ممالک پہلے ہی فرقہ وارانہ، سیاسی اور جغرافیائی تقسیم میں گھرے ہوئے ہیں۔ سعودی عرب اور یو اے ای جیسے بااثر ممالک کے اختلاف سے او آئی سی جیسے ادارے مزید غیر مؤثر ہو سکتے ہیں، اور چھوٹے مسلم ممالک کو مختلف کیمپوں میں تقسیم ہونے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ معاملہ نہایت حساس اور نازک ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات دونوں پاکستان کے قریبی دوست، اہم معاشی شراکت دار اور لاکھوں پاکستانی محنت کشوں کے میزبان ہیں۔ کسی ایک فریق کی طرف جھکاؤ پاکستان کے لیے سفارتی اور معاشی مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ ماضی میں یمن کے معاملے پر پاکستان کو جس دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، وہ آج بھی ایک واضح سبق ہے۔
پاکستان کو اس صورتحال میں جذبات کے بجائے حکمت اور توازن کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ ہماری خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول قومی مفاد، علاقائی امن اور اتحاد بین المسلمین ہونا چاہیے۔ پاکستان اگر کسی کردار کا اہل ہے تو وہ ثالث اور مصلح کا کردار ہے، اس لئے پاکستان کو کسی ایک فریق کا غیر مشروط حمایتی نہیں بننا چاہیے۔ بلکہ اسلام آباد کو چاہیے کہ وہ او آئی سی کے پلیٹ فارم کو فعال بنانے، مکالمے کو فروغ دینے اور مسلم دنیا میں بڑھتی ہوئی تقسیم کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں کرے۔ ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ پاکستان اپنی معاشی خودمختاری کو مضبوط بنائے تاکہ بیرونی دباؤ میں کمی لائی جا سکے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا اختلاف دراصل مشرقِ وسطیٰ میں بدلتی ہوئی طاقت کی سیاست کی علامت ہے۔ اگر یہ اختلاف سنبھالا نہ گیا تو اس کی قیمت صرف عرب دنیا ہی نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا کو چکانا پڑے گی۔ پاکستان کے لیے یہی وقت ہے کہ وہ دانش، توازن اور دور اندیشی کے ساتھ اپنا کردار ادا کرے، کیونکہ عالمی سیاست میں غلط وقت پر کیا گیا غلط انتخاب اکثر ناقابلِ تلافی نقصان کا سبب بن جاتا ہے۔
تحریر: عبدالجبار ترین
