صدر وینزویلا اسی عدالت میں پیش ہوں گے جہاں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا کیس سنایا گیا تھا تازہ ترین Roze News
تازہ ترین دنیا

صدر وینزویلا اسی عدالت میں پیش ہوں گے جہاں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا کیس سنایا گیا تھا

صدر وینزویلا اسی عدالت میں پیش ہوں گے جہاں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا کیس سنایا گیا تھا

صدر وینزویلا اسی عدالت میں پیش ہوں گے جہاں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا کیس سنایا گیا تھا

وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو آج پیر کے روز نیویارک کے مین ہیٹن میں وفاقی عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے، اور یہ وہی عدالت ہے جس کے دائرہ کار میں ماضی میں پاکستانی نژاد ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا کیس سنا گیا تھا اور انہیں 2010 میں سزا سنائی گئی تھی۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا مقدمہ United States District Court for the Southern District of New York میں سنا گیا، جو آج بھی امریکی عدالتی نظام کی سب سے بااثر اور معتبر عدالتوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس عدالت کو غیر رسمی طور پر امریکی عدالتی نظام میں ‘مدر کورٹ’ بھی کہا جاتا ہے۔

یہ عدالت عالمی سطح کے ہائی پروفائل مقدمات کے لیے مشہور ہے۔ اس عدالتی نظام کے تحت:

برنارڈ میڈوف کو 2009 میں دنیا کے سب سے بڑے پونزی اسکینڈل میں 150 سال قید کی سزا دی گئی۔

سیم بینک مین فریڈ کو مالی فراڈ کے مقدمات میں 25 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

گھسلین میکسویل کو جیفری ایپسٹین کے ساتھ کم عمر بچیوں کے جنسی استحصال کے مقدمات میں 20 سال قید کی سزا ہوئی۔
مارٹھا اسٹیورٹ کو جولائی 2004 میں پانچ ماہ قید کی سزا دی گئی۔

تاہم یہ عدالت ہر مقدمے میں سزا کی ضمانت نہیں دیتی۔ بعض ہائی پروفائل کیسز میں جیوری نے ملزمان کو بری بھی کیا یا مقدمات تکنیکی بنیادوں پر ختم ہوئے ہیں۔

صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کے خلاف نارکو ٹیررازم، کوکین اسمگلنگ اور اسلحہ سے متعلق سخت دفعات عدالت میں ثابت ہو جانے کی صورت میں، امریکی قانون کے تحت انہیں طویل المدت یا عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ تاہم حتمی فیصلہ عدالت میں پیش ہونے والے شواہد، الزامات کی نوعیت اور جیوری یا جج کے فیصلے پر منحصر ہوگا۔

اس پیشی کے ساتھ عالمی سیاسی اور عدالتی حلقوں کی نظر اس تاریخی عدالتی دائرہ کار پر مرکوز ہے، جہاں ماضی میں عالمی سطح کے سب سے بڑے اور مشہور مقدمات سنے جا چکے ہیں۔

Exit mobile version