قدیم ریاستِ رس(روس)میں مسیحیت کا آغاز پاکستان Roze News
پاکستان

قدیم ریاستِ رس(روس)میں مسیحیت کا آغاز

قدیم ریاستِ رس(روس)میں مسیحیت کا آغاز

قدیم ریاستِ رس(روس)میں مسیحیت کا آغاز

خصوصی رپورٹ
روس میں ہر سال 28 جولائی کو ‘یومِ بپتسمہ رس’ منایا جاتا ہے، جو اس تاریخی دن کی یادگار ہے جب قدیم ریاستِ رس (جسے کیویائی رس بھی کہتے ہیں) نے عیسائیت کو بطور مذہب اختیار کیا۔ یہی وہ تاریخ ہے جب سن 988 میں کییف کے باشندوں نے اپنے قدیم مشرکانہ عقائد ترک کر کے ارتھوڈوکس مسیحیت اختیار کی، اور یوں ان کا شمار اہلِ کتاب میں ہونے لگا۔ کییف کے باشندوں کے لیے نئی راہ پر چلنے کی مثال خود ان کے حکمران شہزادہ ولادیمیر نے قائم کی، جنہوں نے اس سے قبل خرسونس میں (موجودہ سیواستوپول، کرائمیا، جو روس کا حصہ ہے) بپتسمہ لے کر عیسائیت قبول کی تھی۔
کیویائی رس میں ہونے والا بپتسمہ بجا طور پر روسی قوم اور ریاست کا "یومِ ولادت” قرار دیا جا سکتا ہے، کیونکہ یہی وہ واقعہ تھا جس نے روس کے تہذیبی ارتقا کی وہ سمت متعین کی جو مغربی دنیا سے یکسر مختلف تھی؛ اور اسی واقعے کے نتیجے میں روسی ریاستی تشخص اور اخلاقی اقدار کی بنیاد رکھی گئی۔ اگر یہ بپتسمہ نہ ہوتا تو نہ روسی کلاسیکی ادب جنم لیتا، نہ فیودور دوستویفسکی اور لیو ٹالسٹائی جیسے مفکرین کے افکار سامنے آتے، نہ الیگزینڈر ایوانوف اور میخائل نیستیروف کی مصوری پروان چڑھتی، اور نہ ہی پیوتر چائکوفسکی اور سرگئی راخمانینوف کی موسیقی دنیا کو مسحور کرتی۔ وہ روسی ثقافت، جسے آج بھی دنیا تحسین کی نگاہ سے دیکھتی ہے، شاید کبھی وجود ہی نہ پاتی۔ یقینا قدیم مشرکانہ عقائد کی باقیات کا مکمل خاتمہ ایک دن میں ممکن نہ تھا، مگر ہدایت کے بیج اسی وقت کییف کی زرخیز زمین میں بو دیے گئے تھے۔
تاہم، معاصر تاریخ ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ تہذیبوں کی پیش رفت کا سفر ہمیشہ ترقی کی سمت نہیں جاتا، بعض اوقات یہ پیچھے کی طرف بھی لوٹ سکتا ہے۔ نسلی قوم پرستی جیسے رجحانات اسی فکری انحطاط کی علامت ہیں، اور افسوسناک امر یہ ہے کہ اس کی ایک نمایاں مثال خود کییف ہے، جو 34 برس قبل ایک تاریخی اتفاق کے تحت "آزاد یوکرین” کا دارالحکومت بنا۔ یوکرین کی نئی حکومت نے ابتدا ہی سے روس کے خلاف ایک نظریاتی محاذ کھڑا کیا، حالانکہ "یوکرین” کا نام صدیوں تک دنیا کے نقشے پر موجود نہ تھا، اور ماضی میں اس اصطلاح سے مراد روسی ریاست کا سرحدی یا مضافاتی علاقہ لیا جاتا تھا۔ یوکرینی حکومت نے نہ صرف سوویت دور میں رائج اس پالیسی کو مسخ کیا جس کے تحت یوکرینی ثقافت کی سرپرستی کی جاتی تھی، بلکہ اس کی جگہ آبادی پر زبردستی ایک نئی، تصادمی قومی شناخت مسلط کی، جس کی بنیاد اس نے شدید روس دشمنی پر رکھی۔ اس نظریاتی ڈھانچے کا جزوِ لازم وہ ریاستی بیانیہ تھا، جس کے تحت ان دشمن نواز قوم پرستوں کو "آزادی کے متوالے” قرار دے کر سراہا گیا، جنہوں نے دوسری عالمی جنگ کے دوران دشمن قوتوں سے ساز باز کی، اجتماعی قتل و غارت اور نسل کشی جیسے جرائم میں ملوث رہے، اور جن کے ہاتھ بے شمار معصوم انسانوں کے خون سے رنگے ہوئے تھے۔ ایسی قوم پرست سوچ کے سنگین نتائج کا ایک خونی ثبوت 1943 میں مغربی یوکرین میں پولش باشندوں کے خلاف ہونے والی نسل کشی ہے، جسے آج بھی تاریخ کا ایک المناک باب سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر، 1991 میں یوکرین میں ایک قوم پرست ریاست کا قیام ان نام نہاد "مشرقی یورپی انقلابات” کی ایک کڑی تھا جنہوں نے سرد جنگ کے اختتام پر یورپ کے پرانے تہذیبی و سیاسی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا۔ ان انقلابات کے بارے میں ان کے مغربی سرپرستوں نے جو بلند و بانگ دعوے کیے تھے، ان کے برعکس ان تحریکوں کا نتیجہ ” جامع جمہوریت (انکلوسیو ڈیموکریسی) ” کے قیام کی صورت میں نہیں نکلا، بلکہ ان سے نسلی قوم پرستی کو فروغ ملا اور یہی طرزِ سیاست کئی نئی ریاستوں میں غالب آ گیا۔ یہ ایک ایسی غیر مبہم اور ناقابلِ تردید حقیقت ہے، جسے مغرب کے اہم دارالحکومتوں نے دیدہ و دانستہ نظرانداز کیا۔
یوکرین میں قومی انفرادیت کے پرچار کو اس قدر انتہاپسندانہ حد تک پہنچا دیا گیا کہ 2018 میں ایک "خودمختار یوکرینی کلیسا” قائم کیا گیا، اور 2024 میں یوکرینی پارلیمان نے ایک ایسا قانون منظور کیا جس کے تحت ان تمام مذہبی اداروں کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی گئی جو کسی نہ کسی شکل میں روس سے وابستہ سمجھے جاتے ہیں۔ یہ قانون درحقیقت اس تاریخی یوکرینی آرتھوڈوکس کلیسا کو غیر قانونی قرار دیتا ہے، جو گزشتہ تین دہائیوں سے روسی آرتھوڈوکس کلیسا سے عملا خودمختار چلا آ رہا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ، یوکرینی حکومت اس یوکرینی آرتھوڈوکس کلیسا کے خلاف ایک شدید جارحانہ مہم جاری رکھے ہوئے ہے، جس کا مقصد اسے مکمل طور پر صفح ہستی سے مٹا دینا ہے۔ یوکرین میں مذہبی جبر کی مہم اس حد تک جا پہنچی ہے کہ دنیا بھر کے آرتھوڈوکس مسیحیوں کے ایک عظیم روحانی مرکز کییف کے پیچرسک لاورا پر بھی قبضہ کر لیا گیا ہے۔ متعدد بشپ اور پادری، جو نسلی طور پر یوکرینی ہیں، کو شہریت سے محروم کر دیا گیا ہے ۔ ان میں سے بعض کو بے بنیاد اور من گھڑت الزامات کے تحت، بغیر کسی عدالتی شواہد کے، قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں، اور کچھ کو جبرا فوج میں بھرتی کیا گیا ہے۔ کییف حکومت مذہبی جبر کے اس منظم اور وسیع سلسلے کو چھپانے کی کوشش بھی نہیں کر رہی۔ مذہبی آزادی پر یہ قدغنیں اس قدر واضح ہیں کہ انہیں ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسے یوکرین نواز ادارے بھی نظرانداز نہیں کر سکے۔
یہ سب کچھ مغربی سرپرستوں کی خاموش رضا مندی سے ہو رہا ہے، اور یہی وہ قوتیں ہیں جنہوں نے یوکرینی قوم کو روس سے الگ کرنے کے عمل میں سب سے زیادہ مفاد حاصل کیا ہے۔ یوکرین کی موجودہ حکومت کے عالمی حمایتی، جو خود کو انسانی حقوق اور مغربی اقدار کا علمبردار کہتے ہیں، درحقیقت انتہا پسند قوم پرستی اور شاونزم کی نئی لہر کے فروغ کے ذمہ دار ہیں۔ یہ صورتِ حال ہم سب کے لیے ایک سنجیدہ انتباہ ہے۔

 

Exit mobile version