اگر پاکستان کی علمی و فکری تاریخ میں ان شخصیات کا ذکر کیا جائے جنہوں نے جامعات کو محض تعلیمی ادارے نہیں بلکہ فکری تحریکوں اور انسانی عظمت کے مظاہر میں ڈھال دیا تو پروفیسر ڈاکٹر شاہد صدیقی اور پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود کے نام یقینا نمایاں نظر آتے ہیں۔ یہ دونوں شخصیات صرف ماہرینِ تعلیم نہیں بلکہ تہذیب، اخلاق، وژن اور انسان دوستی کے روشن استعارے ہیں۔ اگرچہ ان کے اندازِ قیادت مختلف ہو سکتے ہیں لیکن ان کا مشترکہ خواب ایک ہی ہے: علم کا فروغ، فکر کی بالیدگی اور انسانی وقار کا احترام۔ ان کے نزدیک تعلیم محض ڈگری یا نصاب کا نام نہیں بلکہ ایک اخلاقی، فکری اور تہذیبی فریضہ ہے۔اکتوبر 2014 میں جب ڈاکٹر شاہد صدیقی نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی سربراہی سنبھالی تو یہ ادارہ صرف فاصلاتی تعلیم کا مرکز نہ رہا بلکہ ایک متحرک علمی قافلہ بن گیا۔ انہوں نے ”کتاب اور صاحبِ کتاب”، ”میڈیا ڈائیلاگ”، ”مت سمجھو ہم نے تمہیں بھلا دیا”، ”ریسرچ کلوکیم”، اسلامی لیکچرز اور پروفیشنل ڈیولپمنٹ جیسے پروگرامز شروع کیے جو رسمی تقریبات کے بجائے فکری تحریکوں میں بدل گئے۔ حامد میر، سلیم صافی، رف کلاسرا، طلعت حسین اور جاوید چوہدری جیسے صحافی اور دانشور ان فکری نشستوں کا حصہ بنے اور یوں یونیورسٹی کی فضا میں مکالمہ، سوال اور تحقیق کی خوشبو بس گئی۔ تاہم ڈاکٹر شاہد صدیقی کی اصل پہچان ان کی درویشانہ طبیعت، سادگی اور انسان دوستی تھی۔ وہ وائس چانسلر ہوتے ہوئے بھی مالی، چوکیدار یا خاکروب کے ساتھ زمین پر بیٹھ کر چائے پینے میں عزت محسوس کرتے تھے۔ ان کے دور میں یونیورسٹی نے بے مثال ترقی کی۔ طلبہ کی تعداد 14 لاکھ سے تجاوز کر گئی، تحقیقی جرائد کا اجرا ہوا، جدید ماڈل اسٹڈی سینٹرز قائم ہوئے اور اساتذہ و ملازمین کی ریکارڈ ترقیوں نے اس دور کو ناقابلِ فراموش بنا دیا۔ نومبر 2018 میں جب ان کی مدتِ ملازمت مکمل ہوئی تو ہر آنکھ اشکبار تھی۔ ان کے الوداعی الفاظ آج بھی دلوں میں گونجتے ہیں: ”میں جا رہا ہوں، مگر میری دعائیں اور خواب یہاں رہ جائیں گے۔ علم کی شمع کو جلتا دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔ ہر دل، ہر ذہن میں۔”پانچ برس بعد، نومبر 2023 میں جب پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے اسی ادارے کی باگ ڈور سنبھالی تو یہ محض ایک تقرری نہیں بلکہ ایک فکری تسلسل کا نیا باب تھا۔ انہوں نے 2024 کو یونیورسٹی کا ”گولڈن جوبلی ایئر” قرار دے کر علمی تقریبات، سیمینارز، کانفرنسز، کانووکیشنز اور ایجوکیشن ایکسپوز کی صورت میں علم و دانش کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا۔ اسلام آباد، لاہور، پشاور، کراچی اور کوئٹہ جیسے شہروں میں کانووکیشن کے انعقاد سے یہ ظاہر ہوا کہ ڈاکٹر ناصر طلبہ کو ان کے دہلیز پر تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے وہی روش اپنائی جو ان کے پیش رو کی پہچان تھی: سادگی، محبت، شفافیت اور انسان دوستی۔ انہوں نے اپنا ذاتی واٹس ایپ نمبر پورے عملے سے شیئر کیا، ہر چھوٹے بڑے ملازم کی بات سننا اپنی قیادت کا حصہ بنایا اور سب کو ادارے کا برابر کا رکن تصور کیا۔ صرف چھ ماہ کے قلیل عرصے میں انہوں نے ڈپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی اور سلیکشن بورڈ کے تین سے چار اجلاس منعقد کرائے اور ان ملازمین، افسران و اساتذہ کو ترقی دی جنہیں برسوں سے انتظار تھا۔ ان کے دورِ قیادت کو صرف انتظامی کارکردگی کے تناظر میں نہیں بلکہ ملازم دوستی کی مثال کے طور پر یاد رکھا جا رہا ہے۔ڈاکٹر ناصر محمود نے طلبہ کی سہولتوں میں اضافے کو اپنی اولین ترجیح بنایا ہے۔ وہ یونیورسٹی کے علاقائی دفاتر کے مسلسل دورے کرتے ہیں، جہاں طلبہ، اساتذہ اور مقامی افراد سے ملاقات کرتے ہیں، ان کے مسائل سنتے ہیں اور انہی کی روشنی میں متعلقہ عملے کو ہدایات دیتے ہیں تاکہ تعلیم کو زمینی حقیقتوں سے جوڑا جا سکے۔ ان کی قیادت میں ادارہ پھر سے نئی فکری سمت کی جانب بڑھ رہا ہے۔ درحقیقت، ڈاکٹر شاہد کی رخصتی ایک فکری دور کا اختتام تھی اور ڈاکٹر ناصر کی آمد اسی روشنی کا تسلسل۔ دونوں نے ثابت کیا کہ قیادت کرسی پر بیٹھنے کا نام نہیں بلکہ دلوں کو جوڑنے، ذہنوں کو روشن کرنے اور اداروں کو تہذیبی روایت میں ڈھالنے کا ہنر ہے۔ جیسا کہ ڈاکٹر شاہد فرمایا کرتے تھے: ”اسلحے سے وقتی طور پر زیر کیا جا سکتا ہے، مگر ذہنوں پر حکمرانی صرف علم کی طاقت سے ممکن ہے۔” یہ جملہ محض ایک قول نہیں بلکہ صدیوں کے لیے ایک فکری منشور کی حیثیت رکھتا ہے۔آج جب علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ایک نئے فکری سفر پر گامزن ہے تو دل بے ساختہ دعا گو ہے کہ ڈاکٹر ناصر محمود اسی اخلاص، انہماک اور وژن کے ساتھ اس چراغ کو روشن رکھیں۔ ان کی قیادت صرف انتظامی ہنر مندی کا نہیں بلکہ ایک نظریاتی و تہذیبی شعور کا مظہر ہے۔ وہ نہ صرف فاصلوں کو پاٹنے کا فن جانتے ہیں بلکہ دلوں کو جوڑنے، ذہنوں کو بیدار کرنے اور تعلیم کو انسان دوستی کے دائرے میں لانے کا سلیقہ بھی رکھتے ہیں۔ اگر ان کی مدتِ ملازمت میں توسیع ہوئی تو یہ محض ایک تقرری کا تسلسل نہیں ہوگا بلکہ علم، وقار اور قیادت کی اس روایت کا تسلسل ہوگا جو اس ادارے کو فکری مرکز بناتی ہے۔لیکن اگر کبھی وہ رخصت ہوئے تو یقینا یہ صرف کرسی کی تبدیلی نہ ہوگی، بلکہ ایک روشنی، ایک نظریہ اور ایک غیرمعمولی وژن کا الوداع ہوگا۔ اس دن صرف رسمی کلمات اور پھولوں کے گلدستے پیش نہیں ہوں گے بلکہ ہر استاد، ہر ملازم اور ہر طالبعلم کے دل سے نکلتی سچی دعائیں، آنکھوں سے بہتے آنسو اور لبوں پر عقیدت و تشکر کے وہ الفاظ ہوں گے جو صرف عظیم رہنماں کے حصے میں آتے ہیں۔ اور اگر روایت کے مطابق ”چراغ سے چراغ جلتا رہے” تو نئی قیادت ضرور آئے گی لیکن یہ سچ ہر دل میں لکھا ہوگا کہ ڈاکٹر ناصر محمود صرف ایک وائس چانسلر نہیں، بلکہ ایک فکری قافلے کے سالار تھے۔۔ایسے سالار جنہوں نے اندھیروں میں چراغ جلایا اور ہر دل میں علم کی روشنی منتقل کر دی۔واقعی، کچھ لوگ عہدوں سے نہیں اپنے کردار اور وژن سے پہچانے جاتے ہیں۔۔ڈاکٹر ناصر محمود انہی روشن ناموں میں سے ایک ہیں۔
تحریر:عزیز الرحمن
