پشاور:خیبرپختونخوا حکومت نے ڈی سی کرم واقعہ کو معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ملوث ملزموں کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا ۔بگن واقعے کے بعد وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت صوبائی حکومت کے اعلی حکام کا ہنگامی اجلاس ہوا، جس میں واقعے کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔صوبائی حکومت کے اجلاس میں کہا گیا کہ علاقے کے لوگ معاہدے کی خلاف ورزی کے ذمہ دار ہیں، اور فیصلہ کیا گیا کہ اس میں ملوث افراد کو قانون کے حوالے کیا جائے، تمام ملوث افراد کو فوری گرفتار کیا جائے۔
دہشت گردوں کی سروں کی قیمت مقرر کی جائیگی، کسی دہشت گرد سے کوئی رعایت نہیں برتی جائیگی اور نہ ان کی معاونت کرنے والوں کو چھوڑا جائے گا۔
لوئر کرم کے علاقے بگن اوچت میں حکومتی قافلے پر ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں ڈپٹی کمشنر جاوید اللہ محسود سمیت سات افراد زخمی ہوئے تھے، واقعہ کے بعد ضلع کرم کے لیے امدادی سامان پر مشتمل قافلے کی روانگی روک دی گئی۔ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ لوئر کرم میں سرکاری گاڑیوں پر فائرنگ کا واقعہ امن معاہدہ سبوتاژ کرنے کی سازش ہے۔
کرم فائرنگ: کے پی حکومت کا ملوث ملزمان کو گرفتار کرنے کا فیصلہ

کرم فائرنگ: کے پی حکومت کا ملوث ملزمان کو گرفتار کرنے کا فیصلہ