پشاور:سابق صدر ڈاکٹر عارف علوی نے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کے ہمراہ پشاور ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملٹری کورٹ میں دہشت گردوں کی سزائیں ہونی چاہیے لیکن سیاستدان کب سے دہشت گرد بن گئے ہیں کہ ملٹری ٹرائل ہو رہا ہے؟ ساری دنیا ملٹری کورٹ کے خلاف ہے ایک عارف علوی نہیں۔ جو حکمرانی کر رہے ہیں، ان سے مذاکرات ہونی چاہیے۔
صحافت کے اوپر بڑا پریشر ہے، آپ سچ بول نہیں سکتے وار سچ پہنچا نہیں سکتے، صرف سوشل میڈیا پر معلومات پہنچائی جا رہی ہے۔
سارا میڈیا بند تھا لیکن عوام نے بانی پی ٹی آئی کو ووٹ دیا، صحافی اور مبصرین عوام تک حقیقت نہیں پہنچا رہی۔یہ راگ الاپ رہے تھے کہ کسی نے گولی نہیں چلائی ، جس کو قتل کیا، جس کو شہید کیا، ان کے فیملیز پر پریشر ڈالا جا رہا ہے، بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ثبوت مٹا دیے گئے۔ہم ایک ہی موقع پر جگہ جگہ نمودار ہوئے، میں کراچی میں تھا اور پرچہ مرے خلاف کٹ گیا جبکہ میرے خلاف ایک مقدمہ چل رہا ہے کہ میں نے بندوقیں سپلائی کی ہیں۔
سیاستدان کب سے دہشتگرد بن گئے کہ انکے خلاف ملٹری ٹرائل ہو رہا ہے، عارف علوی

سیاستدان کب سے دہشتگرد بن گئے کہ انکے خلاف ملٹری ٹرائل ہو رہا ہے، عارف علوی