اسلام آباد / راولپنڈی: سانحہ 9 مئی کے دوران جی ایچ کیو حملہ کیس میں چالان کی تفصیلات سامنے آگئیں، ملزمان نے سابق صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کی زیر قیادت جی ایچ کیو پر حملہ کیا، دھاوا بولتے ہوئے گیٹ توڑ دیا، فوجی جوانوں سے بھرپور مزاحمت کی اور توڑ پھوڑ کرتے رہے۔ حساس عسکری املاک میں توڑ پھوڑ کرتے ہوئے آگ لگا دی، ڈنڈوں پتھروں سے حملہ کیا گیا، پیٹرول بم مارا گیا۔ملزمان جی ایچ کیو گیٹ توڑ کر اندر داخل ہوگئے، ملک میں بغاوت کا ساماں پیدا کیا گیا، جی ایچ کیو بلڈنگ کے شیشے توڑے دئیے گئے۔ پاک آرمی کی ساکھ کو نقصان پہنچایا گیا، عسکری ملازمین پر حملے کیے گئے۔ ملک اور فورسز دشمن نعرے لگائے گئے۔ آئی ایس آئی عمارت پر حملے کیے گئے، مظاہرہ منظم مجرمانہ سازش کے تحت کیا گیا، موقع پر 6 ملزم گرفتار کیے جن کی نشاندہی پر مزید گرفتاریاں کی گئیں۔استدعا کی گئی کہ ملزمان کو عبرت ناک سزائیں دی جائیں۔ مقدمے کے 3 وعدہ معاف گواہ سابق ایم این اے صداقت عباسی، سابق ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی واثق قیوم عباسی اور سابق ایم پی اے عمر تنویر بٹ منحرف ہوگئے ہیں اور درخواستیں دائر کی ہیں۔
جی ایچ کیو کیس؛ عمران خان سمیت دیگر ملزمان پر 27سنگین دفعات عائد

بانی پی ٹی آئی کو جیل میں بی کلاس کی تمام سہولیات میسر ہیں،جیل حکام