پشاور: پشاور کے علاقے دیر کالونی میں ایک نجی اسکول کی چھت گرنے کا دلخراش واقعہ پیش آیا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد بچوں کے ملبے تلے دبنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔پشاور کے علاقے دیر کالونی میں بارش کے باعث نجی اسکول کی عمارت منہدم ہونے کا دلخراش واقعہ پیش آیا ہے، جس کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 21 ہو گئی ہے۔ مرنے والوں میں معصوم بچے اور ایک خاتون ٹیچر بھی شامل ہیں۔
لیڈی ریڈنگ اسپتال کے ترجمان محمد عاصم کے مطابق اسپتال میں اب تک 21 لاشیں لائی جا چکی ہیں، جبکہ اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ترجمان نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والے تمام بچوں کی عمریں 13 سال تک ہیں، اس کے علاوہ ایک خاتون ٹیچر کی لاش بھی اسپتال منتقل کی گئی ہے۔ حادثے میں 17 بچے زخمی بھی زیر علاج ہیں جن میں سے کئی کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
ریسکیو 1122 کے ترجمان محمد بلال کے مطابق حادثے کی اطلاع ملتے ہی امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں اور 16 ایمبولینسیں جائے وقوعہ پر موجود ہیں۔ابتدائی معلومات کے مطابق پہلے اسکول کا ایک فلور گرا اور اس کے بعد پورا گراؤنڈ فلور زمین بوس ہو گیا، اور عمارت کو حالیہ بارشوں کے باعث شدید نقصان پہنچا تھا۔ ریسکیو ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے پرعزم ہیں اور آپریشن تاحال جاری ہے۔
دوسری طرف، سیکریٹری تعلیم عنایت اللہ نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے پرائیویٹ اسکول ریگولیٹری اتھارٹی (پیسرا) کو فوری طور پر رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا ہے۔ سیکریٹری تعلیم نے پیسرا حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ کر تمام شواہد اکٹھے کریں اور حادثے کی وجوہات کا تعین کریں۔امدادی کارروائیاں تاحال جاری ہیں اور علاقے میں خوف و ہراس کا ماحول پایا جاتا ہے۔ انتظامیہ اور مقامی رضاکار بھی امدادی کاموں میں حصہ لے رہے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی عمارت گرنے کے دلخراش واقعے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے۔وزیراعظم نے واقعے میں جاں بحق ہونے والے معصوم بچوں اور ایک خاتون ٹیچر سمیت تمام افراد کی مغفرت اور بلندی درجات کی دعا کی ہے۔ انہوں نے سوگوار خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ لواحقین کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق اور صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے حادثے میں زخمی ہونے والے بچوں کی جلد صحت یابی کے لیے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زخمیوں کو فوری اور بہترین ممکنہ طبی امداد فراہم کی جائے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے جائے وقوعہ پر امدادی کارروائیوں کو مزید تیز کرنے کی بھی سخت ہدایت جاری کی ہے۔

Leave feedback about this