امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے غزہ میں بچوں اور عورتوں سمیت شہریوں کی ہلاکت کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے جو کچھ کیا وہ اپنے دفاع میں کیا۔
اسکائی نیوز عربیہ کو انٹرویو میں لنزے گراہم کا کہنا تھا کہ یہ جنگ ہے، اور جنگ میں سب کچھ جائز ہوتا ہے۔
امریکی سینیٹر نے کہا کہ ہم نے دوسری عالمی جنگ میں بھی جرمنوں کے خلاف کیا کچھ نہیں سوچا تھا۔ ہم نے ہر شہر پر بمباری کی تھی اور ان کے شہریوں کو بھوکا رکھا، اور کوئی ایک لمحہ بھی اس پر غور نہیں کیا۔
لنزے گراہم کا یہ بیان عالمی سطح پر شدید تنقید کا باعث بن رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور متعدد ممالک نے ان کے بیانات کو غیر انسانی اور جنگی جرائم کے مترادف قرار دیا ہے۔
اس سے قبل اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری کشیدگی میں غزہ کے شہریوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، اور لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں۔ امریکی سینیٹر کے بیانات نے اس تنازعے میں نئی عالمی بحث کو جنم دیا ہے۔
خیال رہے کہ غزہ کی پٹی میں 10 اکتوبر 2025 کے جنگ بندی اعلان کے بعد بھی اسرائیل کی جانب سے تقریباً روزانہ کی بنیاد حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جن میں سیکڑوں افراد شہید ہوئے ہیں۔
غزہ کے سرکاری میڈیا آفس کے مطابق 10 اکتوبر 2025 سے 10 فروری 2026 تک جنگ بندی کی کم از کم 1,620 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔
