اٹھارویں ترمیم اتنی ہی خطرناک ہے جتنا کہ شیخ مجیب الرحمان کا 6پوائنٹ ایجنڈا تھا ،سعید مہدی

اٹھارویں ترمیم ،کنکرنٹ لسٹ بھٹو نے شامل کی تھی ” ن لیگ ” پیپلز پارٹی نے اسے ختم کر دیا

٭سعید مہدی کہتے ہیں کہ میں 18ویں ترمیم والی بات کو حلفاً کہنے کیلئے تیار ہوں ، شہباز شریف بھی گاڑی میں ساتھ بیٹھے تھے آپ ان سے پوچھ لیں ۔
٭ 18ویں ترمیم کے ساتھ پارلیمانی نظام تو فیل ہو چکا ہے،دو تہائی اکثریت سے ہی صدارتی نظام آئے گا
٭ کنکرنٹ لسٹ کو جو ختم کیا وہ ہی سب بڑا مسئلہ ہے ، اگر آج یہ شامل ہوتی تو پھر مسائل نہ درپیش ہوتے
اسلام آباد (روزنیوزرپورٹ)پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے کہا ہے کہ اگر وفاقی حکومت کے پاس گنجائش ہے تو وہ مدد کر سکتی ہے لیکن جو 18ویں ترمیم ہے اس کو میں چیلنج کیا تھا ، سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر ایس کے نیازی بنام فیڈریشن وہاں موجود ہے ، اس میں جس کنکرنٹ لسٹ اور دیگر مسائل کے حوالے سے میں نشاندہی کی تھی آج اسی پر بحث چل رہی ہے ، میں یہ نہیں کہتا 18ویں ترمیم ختم کر دی جائے اس میں بہت ساری اچھی چیزیں بھی ہیں، لیکن کچھ شقیں ایسی بھی ہیں جن پر تحفظات ہیں، جیسے ایجوکیشن اور تعلیم وغیرہ ، کنکرنٹ لسٹ کو بننا چاہیے ، میں سعید مہدی صاحب کے پاس بیٹھا تھا وہ کہتے ہیں کہ نیازی صاحب 18ویں ترمیم جب پاس ہوئی تھی تو میں نواز شریف کے ساتھ گاڑی میں جار ہا تھا اسحاق ڈار میرے ساتھ پیچھے بیٹھے تھے ، اور آگے شہباز شریف گاڑی چلا رہے تھے ، واضح رہے کہ سعید مہدی نواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری تھے ، 18ویں ترمیم کے حوالے سے پیپلز پارٹی کی طرف سے رضا ربانی اور ن لیگ کی طرف سے اسحاق ڈار اس ترمیم کے حوال سے کام کررہے تھے،نواز شریف نے اسحاق ڈار کو مبارک دی کہ ڈار صاحب آپ کو بہت بہت مبارک ہو آپ نے 18ویں ترمیم اسمبلی سے منظور کرا لی ہے یہ آپ کا بڑا کارنامہ ہے ، سعید مہدی صاحب کہتے ہیں کہ پھر میاں صاحب آپ کو شیخ مجیب الرحمان کو بھی مبارک دینی چاہیے ، جس طرح اس نے سکس پوائنٹ ایجنڈا دیا تھا ، 18ویں ترمیم کے حوالے سے سعید مہدی یہ کہتے ہیں کہ یہ اتنی ہی خطرناک ہے جتنا کہ شیخ مجیب کا سکس پوائنٹ ایجنڈا ہے ، سعید مہدی صاحب کہتے ہیں کہ آپ شہباز شریف سے پوچھیں وہ بھی ساتھ بیٹھے تھے، ایک سوال کے جواب ایس کے نیازی نے کہا کہ سعید مہدی یہ بات حلفیہ کہنے کیلئے تیار ہیں، اب مسئلہ یہ ہے کہ 18ویں ترمیم پر بات کریں ، اس کو اسمبلی میں زیر بحث لائیں، یا ملک صدارتی نظام کی طرف جائے ، کیونکہ 18ویں ترمیم کے ساتھ پارلیمانی نظام تو فیل ہو چکا ہے ، آج جو دس سال بعد مسائل سامنے آرہے ہیں ان کو دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ان کی کیا وجوہات ہیں، دنیا جو کہہ رہی ہے ، تعلیم، صحت میں مسائل پیدا ہوئے ، ایک خاندان سے ایک شخص تین دفعہ وزیر اعظم ہو سکتا ہے ، ادھر بہت ساری ایسی چیزیں ہیں، جو کہ ویب سائٹ پر موجود ہیں، میں 18ویں ترمیم کے حوالے سے ان پرسن پیش ہوتا تھا اور شریف الدین پیرزادہ بھی فل کورٹ کے سامنے پیش ہوتے تھے، کچھ نہ کچھ کرنا پڑے گا ، دو تہائی اکثریت سے ہی صدارتی نظام آئے گا، اسی اکثریت سے 18ویں ترمیم میں شقیں تبدیل ہو سکتیں ہیں، ایس کے نیازی نے کہا کہ 18ویں ترمیم میں کنکرنٹ لسٹ ذوالفقار علی بھٹو شامل کی تھی ، لیکن پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے اسے ختم کردیا ، یعنی کے اس کے ختم کرنے میں نواز شریف ارو زرداری کا اہم کردار تھا ، انہوں نے کہا کہ صدارتی نظام نے ہمیںکچھ نہیں دیا لیکن جب پارلیمانی نظام ہوتا ہے تو اسے چلاتا کوئی اور ہے اور ممبران قومی اسمبلی جو مہر لگانے کیلئے پاس بیٹھے ہوتے ہیں ان کے پاس تو کوئی اختیار ن ہیں ہوتا ، آپ دیکھیں کہ خاقان عباسی نے کہا تھا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں اتحا د ہو ہی نہیں سکتا تو پھر اس قسم کے پارلیمانی نظام کا کیا فائدہ جس میں عدم اعتماد ہی نہیں ہو سکتا، 60آرڈیننس ہوئے اور تیس بل پاس ہوئے اور وہ بل بھی کسی اور نے پاس کرائے ہیں، حکومت نے نہیں کرائے ، کنکرنٹ لسٹ کو جو ختم کیا وہ ہی سب بڑا مسئلہ ہے ، اگر وہ شامل ہوتی تو پھر یہ مسائل نہ درپیش ہوتے ، انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پہلے قانون سازی کون سی تحریک ا نصاف کرائی ہے جنہوں نے پہلے کرائی ہے وہ اب بھی کرا لیں گے ، انہوں نے کہا کہ جو محب وطن لوگ ہیں، وہ وطن کی خاطر قانون سازی کرا لیتے ہیں، انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی ایک بڑی ناکامی ہے کہ اپوزیشن کو ساتھ لیکر چلنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، اگر وہ قانون سازی کی صلاحیت رکھتی ہوتی تو پھر اتنے صدارتی آرڈیننس نہیں آتے ، یہ جو قومی مفادات میں ضروری قوانین ہیں یہ بھی کوئی اور لوگ کراتے ہیں، اور ان کی وجہ سے قانون سازی ہوجاتی ہے ، ورنہ قانون سازی مشکل ہو جاتی ہے ،