امریکی صدر کا افغانستان سے فوجی انخلا کا اعلان، امن مذاکرات میں‌ پاکستان کے کردار کی تعریف

واشنگٹن: امریکی صدر جوبائیڈن نےافغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کی نئی تاریخ کا اعلان کرتے ہوئے افغان امن مذاکرات میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی ہے۔

قوم سے خطاب کرتے ہوئے جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ افغان امن مذاکرات کی حمایت کرتے اور پاکستان کےکردارکو تسلیم کرتے ہیں کیونکہ امن مذاکرات میں پاکستان،روس،چین نے اہم کردار ادا کیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ’یکم مئی 2021 سے افغانستان میں تعینات امریکی فوج کے انخلا کا عمل شروع ہوجائے گا اور 11ستمبر تک افغانستان سے تمام امریکی فوجی نکل جائیں گے‘۔

جوبائیڈن نے کہا کہ ’میں چوتھا صدر ہوں جس کے دور میں امریکی فوج افغانستان میں تعینات ہے، اب یہ ذمہ داری پانچویں صدر کو نہیں سونپوں گا، امریکا نے افغانستان میں اپنے اہداف مکمل کرلیے ہیں‘۔

مزید پڑھیں: بائیڈن کا 9/11 کی 20ویں برسی سے قبل افغانستان سے فوجیوں کے مکمل انخلا کا فیصلہ
انہوں نے کہا کہ ’اب امریکا کی سب سے طویل جنگ کے خاتمے کا وقت آگیا ہے کیونکہ اب افغانستان میں امریکی فوج کے مزید قیام کی ضرورت نہیں ہے‘۔

امریکی صدر نے واضح کیا کہ فوجیوں کی واپسی کے دوران اگر افواج پر حملے ہوئے تو اُن کا بھرپور دفاع کیا جائے گا، ہر چیز کے باوجود ہم دہشت گردوں کےخطرے پر نظریں رکھے ہوئے ہیں، یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ افغان سرزمین مستقبل میں کبھی ہمارے خلاف استعمال نہیں ہوگی‘۔

جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ ’طالبان اور افغان حکومت نے امریکا کو مستقبل میں پرامن رہنے کی یقین دہانی کرائی اور یہ بھی واضح کیاکہ اتحادی ممالک کے خلاف بھی افغان سرزمین استعمال نہیں ہوگی، سفارتی اورانسانی خدمت کےکام افغانستان میں جاری رہیں گے‘۔

انہوں نے بتایاکہ افغان جنگ کے دوران ہمارے اب تک 2 ہزار 488 فوجی مارے گئے، اب ہمیں آئندہ بیس سالوں کی جنگ پر توجہ مرکوز کرنا ہے، ماضی کے بیس سالوں پر توجہ نہیں دینی، افغانستان میں امریکی فوج کی غیر معینہ مدت تک موجوگی کا اب کوئی جواز نہیں ہے‘۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ ’افغانستان کی مددکیلئے پاکستان کو مزیداقدامات کرنا ہوں گے‘۔