گھر بیٹھے کیپسول یا گولی سے کورونا کا علاج، برطانوی حکومت کا بڑا دعویٰ

لندن: برطانوی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ آئندہ چند ماہ میں گولی یا کیپسول کی شکل میں ایسی ادویات تیار کرلی جائیں گی جن سے گھر بیٹھے کورونا کا علاج ممکن ہوگا۔

برطانیہ کی حکومت نے توقع ظاہر کی ہے کہ یہ ادویات چند ماہ میں دستیاب ہوں گی، اس مقصد کے لیے حکومت نے ایک ٹاسک فورس کو تشکیل دیا ہے جسے 2021 کے موسم خزاں تک کم از کم 2 اینٹی وائرل ادویات گولی یا کیپسول کی شکل میں تیار کرنے کا ٹارگٹ سونپا گیا ہے۔

یہ وہ ادویات ہوں گی جو کورونا کا سامنا کرنے والے مریض گھر بیٹھے کھا سکیں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گولیوں کی شکل میں ادویات کا فائدہ ان افراد کو بھی ہوگا جنہیں کورونا کی ویکسین نہیں لگائی جاسکتی۔برطانوی حکومت نے بتایا کہ ٹاسک فورس علاج تیار کرنے کے بعد کلینیکل ٹرائلز کے ذریعے جانچ پڑتال کرے گی۔

سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوا تو اس کے ذریعے کورونا سے صحت یابی کا عمل تیز ہوجائے گا اور اس علاج کے ممکنہ طور پر سنگین اثرات بھی نہیں ہوں گے۔ قائم کی جانب سے اینٹی وائرل ٹاسک فورس برطانیہ کی ویکسین ٹاسک فورس کی طرح کام کرے گی جو اس سے قبل برطانیہ میں کامیابیاں حاصل کرچکی ہے۔

برطانیہ کے چیف سائنسی مشیر سر پیٹرک ویلانس کا کہنا تھا کہ گولی یا کیپسول کی شکل میں اینٹی وائرل ادویات وبا کے خلاف ردعمل کے لیے اہم ٹول ثابت ہوں گی، ان سے کورونا کی نئی لہروں کا بھی سامنا ممکن ہوگا۔