ورلڈ کپ اسکواڈ، مڈل آرڈر بیٹنگ پر تشویش کے بادل گہرے ہوگئے

لاہور: ورلڈکپ اسکواڈ کی مڈل آرڈر بیٹنگ پر تشویش کے بادل گہرے ہوگئے۔ چیف سلیکٹر محمد وسیم نے ورلڈکپ اسکواڈ کا اعلان کیا تو کارکردگی میں تسلسل نہ ہونے کے باوجود کئی کرکٹرز کی شمولیت پر حیرت کا اظہار کیا گیا،نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کیخلاف 7ہوم میچز کو کھلاڑیوں کی فارم اور فٹنس کا امتحان قرار دیتے ہوئے توقع ظاہر ہو رہی تھی کہ تجربات کی روشنی میں مینجمنٹ درست کمبی نیشن تشکیل دینے میں کامیاب ہوجائے گی۔

دونوں ملکوں نے سیریز کھیلنے سے انکار کیا تو نگاہیں نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ پر مرکوز ہوگئیں، ورلڈکپ اسکواڈ میں شامل مڈل آرڈر بیٹسمین خاص توجہ کا مرکز تھے لیکن اب تک ہونے والے میچز میں کوئی حوصلہ افزا صورتحال سامنے نہیں آئی۔ چند کرکٹرز کی راولپنڈی میں جاری نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں کارکردگی نے کئی سوال چھوڑ دیے ہیں،صہیب مقصود،آصف علی، خوشدل شاہ اور اعظم خان ڈومیسٹک ٹورنامنٹ میں ابھی تک توقعات کے مطابق پرفارم نہیں کرسکے۔

صہیب مقصود نے 3 اننگز میں 18، 0 اور 24 رنز بنائے،آصف علی نے ایک اننگز میں قدرے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 43 ناٹ آؤٹ اوردوسری میں 10 رنز اسکور کیے،خوشدل شاہ نے 21، 24 اور 6 کی اننگز کھیلیں،اعظم خان نے 20، 14 اور1 رن بنایا،رن اسکوررز کی فہرست میں محمد رضوان پہلے اور بابر اعظم تیسرے نمبر پر ہیں۔

صاحبزادہ فرحان اور محمد اخلاق سمیت دیگر چند کرکٹرز متاثر کن کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں، ورلڈ کپ کے لیے منتخب بیٹرز کے آؤٹ آف فارم ہونے کی وجہ سے مڈل آرڈر بیٹنگ پر پاکستانی مینجمنٹ کی تشویش مزید بڑھ گئی ہے،کھلاڑیوں کی کارکردگی ریڈار میں آ چکی،اگر اسی طرح کی صورتحال رہی تو اسکواڈ میں ایک سے زائد تبدیلیاں متوقع ہیں۔ یاد رہے کہ آئی سی سی کی جانب سے وضع کردہ قواعدوضوابط کے مطابق ورلڈکپ کیلیے قرنطینہ شروع ہونے سے5روز قبل تک اسکواڈز میں تبدیلیوں ہوسکتی ہیں۔ میگا ایونٹ کا آغاز 17اکتوبر کو ہوگا۔

دریں اثناء ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ کیلیے راولپنڈی میں تیار کردہ پچز کے معیار پر پی سی بی کے اعلیٰ حکام سخت برہم ہیں، انھوں نے ذمہ داروں سے سخت باز پرس بھی کی ہے،6اکتوبر سے لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں شروع ہونے والے دوسرے مرحلے کیلیے ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کیلیے موزوں پچز تیار کرنے کی ہدایت کردی گئی۔

ورلڈکپ کی تیاری کے پیش نظر سپورٹنگ پچز تیار کرنے کی ضرورت تھی تاکہ بیٹرز کو اسٹروک پلے اور پاور ہٹنگ کا بہتر موقع مل سکتا۔ غیر معیاری پچز سے میگا ایونٹ کی تیاریاں متاثر ہوں گی۔ یاد رہے کہ راولپنڈی میں ابھی تک صرف ایک بار 180کے قریب اسکور ہوسکا،پچز کے ناسازگار ہونے کے بارے میں صہیب مقصود اور حارث سہیل کی گفتگو بھی منظر عام پر آچکی،قذافی اسٹیڈیم میں کنڈیشنز مختلف اور ٹیموں کی جانب سے بڑے اسکورز بنائے جانے کا امکان ہے۔