پاکستان کرکٹ ٹیم میں جنم لینے والے نئے تنازعے پر پی سی بی نے خاموشی توڑ دی

نیوزی لینڈ، انگلینڈ کیخلاف سیریز اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کیلئے قومی اسکواڈ کا اعلان ہونے کے بعد سے پاکستان کرکٹ ٹیم میں سلیکشن سے متعلق نئے تنازعے نے جنم لیا ہے تاہم اب پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کا ردعمل سامنے آگیا ہے۔

پی سی بی کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’ہمیں معلوم ہوا ہے کہ قومی ٹیم کے ماحول سے متعلق حقائق کے منافی رپورٹس گردش کر رہی ہیں، آئندہ بین الاقوامی اسائنمنٹس کے لیے اسکواڈ کا اعلان کیا جاچکا ہے اور اس سلسلے میں جو سمت اختیار کی گئی ہے ہمارے کپتان بابر اعظم مکمل طور پر اس کے پیچھے کھڑے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’منگل کی سہ پہر، کچھ کھلاڑیوں نے پاکستان کے سابق کپتان اور پی سی بی بورڈ آف گورنرز کے موجودہ رکن رمیز راجہ کے ساتھ ملاقات کی ہے جو بہت صحت مندانہ اور مثبت رہی، اس ملاقات میں اتفاق کیا گیا ہے کہ ہمیں آئندہ سیریز میں کس طرح کی کرکٹ کھیلنے کی ضرورت ہے۔‘

وسیم خان نے مزید کہا کہ ’لازم ہے کہ ہم سب مل کر اس اسکواڈ کو مستحکم کریں اور اس کی مکمل حمایت کریں تاکہ اس کی تمام تر توجہ آئندہ ماہ شیڈول آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ پر مرکوز ہوسکے۔‘ خیال رہے کہ 6 ستمبر کو نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کیخلاف سیریز اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کیلئے قومی اسکواڈ کا اعلان ہونے کے کچھ دیر بعد اچانک مصباح الحق ہیڈ کوچ اور وقار یونس بولنگ کوچ کے عہدے سے دستبردار ہوگئے تھے۔

ان کی جگہ ثقلین مشتاق اور عبدالرزاق عبوری کوچز کے فرائض انجام دیں گے۔ بعد ازاں یہ خبریں سامنے آئیں کہ مصباح الحق نے سلیکشن معاملات میں مشاورت نہ کرنے پر عہدے سے استعفیٰ دیا۔ ذرائع کے مطابق مصباح الحق کی آج پی سی بی کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان سے ملاقات ہوئی جس میں وسیم خان نے مصباح الحق کو نیوزی لینڈ سیریز میں آرام لینے کا کہا جب کہ اس دوران مصباح اور وسیم خان کے درمیان بحث بھی ہوئی۔

ذرائع نے بتایا کہ مصباح الحق نیوزی لینڈ سیریز میں کوچنگ کے خواہش مند تھے اور ان کو ٹیم سلیکشن پر بھی تحفظات تھے، وہ اعظم خان کی ٹیم میں شمولیت کے سخت خلاف تھے۔ اگلے روز قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے بھی سلیکشن پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔

ذرائع نے انکشاف کیا کہ قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ کے انتخاب سے خوش نہیں ہیں، کپتان کو اعظم خان اور صہیب مقصود کی ٹیم میں شمولیت پر اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق چیف سلیکٹر محمد وسیم نے متوقع چیئرمین رمیز راجہ سے مشاورت کے بعد ان دونوں کھلاڑیوں کو اسکواڈ میں شامل کرلیا جبکہ بابر اعظم فہیم اشرف اور فخر زمان کو اسکواڈ میں شامل کرنے کے حامی تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کی سلیکشن کے حوالے سے بابر اعظم نے رمیز راجہ کو دو مرتبہ فون کیا، رمیز راجہ نے کپتان کی بات ضرور سنی لیکن انہیں پیغام دیا گیا کہ زیادہ فوکس کھیل پر رکھیں، کھلاڑیوں کو ان آؤٹ کروانے پر توجہ کم کریں۔