اولمپکس، ارشد ندیم تھرو کرتے ہوئے کیوں ہچکچا رہے تھے؟ معالج کا بیان سامنے آگیا

ٹوکیو اولمپکس میں پاکستانی دستے کے ڈاکٹر اسد عباس نے جیولین تھرو میں قومی پرچم سربلند کرنے والے ارشد ندیم کے حوالے سے اہم انکشاف کیا ہے۔

ڈاکٹر اسد عباس کا کہنا ہے کہ ارشد ندیم کی کہنی میں درد تھا جس کی وجہ سے وہ صحیح طرح سے تھرو نہیں کر پارہے تھے اور انہوں نے بازو میں درد کے باعث اولمپک میں نہ جانے کا فیصلہ کیا تھا لیکن انہیں اولمپک میں شرکت کیلئے فٹ کیا گیا۔

ڈاکٹر اسد عباس نےبتایاکہ ٹوکیو میں بھی ارشد ندیم تھرو کرتے ہوئے ہچکچا رہے تھے کہ کہیں درد پھر سے نہ نکل آئے لیکن انہیں یقین دہانی کرائی گئی پھر حوصلے کے ساتھ ارشد ندیم نے کارکردگی دکھائی۔

ان کا کہنا تھاکہ بھارتی کھلاڑی کا کوچ ڈرا ہوا تھا اور وہ کہتا تھاکہ ارشد ندیم 90 میٹر سے زیادہ تھرو کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ڈاکٹر اسد عباس نےکہاکہ جیولین تھرو کے ایک بھارتی کھلاڑی کے ساتھ 7 آفیشل آئے تھے، ہمارے کھلاڑی بھی اگر تربیت کے ساتھ معاشی طور پر خوشحال ہوں تو وہ کسی سے کم نہیں۔

خیال رہے کہ ٹوکیو اولمپکس میں جیولین تھرو کے مقابلے میں بھارت کے نیرج چوپڑا نےگولڈ میڈل جیتا تھا جبکہ پاکستان کے ارشد ندیم پانچویں پوزیشن پر رہے تھے۔