جاوید میانداد نے پان کھلایا تو کیا ہوا؟؟ دیکھیے وسیم اکرم سے دلچسپ گفتگو

کراچی : پاکستان ٹیم کے سابق لیجنڈری بالر وسیم اکرم کا شمار کرکٹ کی تاریخ کے عظیم ترین فاسٹ بالرز میں ہوتا ہے، وہ ون ڈے کرکٹ میں500 وکٹیں حاصل کرنے والے پہلے بالر تھے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے اس ہیرو نے خصوصی گفتگو کی جس میں انہوں نے کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اپنی زندگی میں پیش آنے والے دلچسپ واقعات بھی شیئر کیے۔ سابق کپتان وسیم اکرم نے اپنے ساتھی کھلاڑی جاوید میانداد کے حوالے سے بتایا کہ جاوید میانداد میرے محسن ہیں اور ان کی محبت اور شفقت کی وجہ سے مجھے بہت سی کامیابیاں ملیں۔ غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کراچی کے شہریوں کو مشورہ دیا کہ وہ پان اور گٹکے سے اجتناب کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ بیوی کے انتقال کے بعد میں اپنے بچوں کے ساتھ لاہور سے کراچی آگیا بچے چھوٹے تھے پھر کچھ وقت گزار کے بچوں کو اسکول میں داخلہ دلوایا اور ان کی تمام ذمہ داریاں پوری کرنے کی تگ و دو میں لگا رہا۔
کراچی اور لاہور کے مختلف کلچر سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ایک چیز دیکھ کر مجھے غصہ آتا ہے جب کسی جگہ پر پان اور گٹکے کی پیک کے نشانات دیکھتا ہوں، کچھ لوگ پان کھا کر جگہ جکہ تھوکتے ہیں جو مناسب بات نہیں۔

انہوں نے کہا کہ جاوید بھائی بھی پان کھاتے تھے اور ایک بار انہوں نے مجھے بھی پان کھلایا تھا جس کو کھا کر مجھے چکر آگئے تھے جبکہ جاوید بھائی پان بہت نفاست سے کھاتے تھے۔ بھارت میں کھیلی جانے والے کلکتہ میچ کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ایک موقع پر ٹنڈولکر کے رن آؤٹ ہونے پر تماشائی غصے میں بے قابو ہوگئے تھے کیونکہ اتفاق سے شعیب اختر ان کے سامنے آگیا تھا اور گیند بھی ڈائریکٹ وکٹوں پر لگی تھی۔

گراؤنڈ میں لوگوں نے پتھراؤ شروع کردیا بہت مشکل صورتحال پیدا ہوگئی ایسے میں سنیل گواسکر بھائی میرے پاس آئے اور کہا کہ ٹنڈولکر کو واپس بلالو لوگوں پر اچھا اثر پڑے گا تو میں نے کہا کہ نہیں بلاؤں گا اگر امپائر خود کہے گا تو پھر مجھے کوئی اعتراض نہیں۔