’’وقت کم مقابلہ سخت‘‘ کمزور ورلڈ کپ پلان پاکستان کی تشویش بڑھانے لگا

لاہور: وقت کم مقابلہ سخت،کمزور ورلڈکپ پلان پاکستان کی تشویش بڑھانے لگا، جب کہ ہیڈ کوچ مصباح الحق کے مطابق محدود اوورز کی کرکٹ میں ٹاپ آرڈر کی کارکردگی اچھی رہی۔

ہرارے سے ورچوئل میڈیا ٹاک میں مصباح الحق نے کہاکہ دورئہ جنوبی افریقہ اور زمبابوے کے نتائج خوش آئند ہیں، ان ملکوں کی کنڈیشنز ہمیشہ مختلف اور مشکل ہوتی ہیں، یہاں جیتنا ٹیم کیلیے اہم ہے، فتوحات سے حاصل ہونے والا اعتماد آئندہ سخت چیلنجز میں بھی کام آئے گا۔

انھوں نے کہا کہ زمبابوے سے ٹیسٹ سیریز میں اوپنرز نے اچھا پرفارم کیا، ان کا فارم میں آنا خوش آئند ہے، عابد علی نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈبل سنچری بنائی،عمران بٹ بھی ایک بڑی اننگز کھیلنے میں کامیاب رہے، فواد عالم اور اظہر علی نے سنچریاں بنائیں، حسن علی نے مسلسل غیر معمولی کارکردگی پیش کی۔

ہیڈ کوچ نے کہا کہ نیوزی لینڈ میں کیچز ڈراپ کرنے کا مسئلہ سامنے آیا تھا، ان دونوں ٹورز میں فیلڈنگ میں خاصی بہتری نظر آئی،البتہ وائٹ بال کرکٹ میں مڈل آرڈر پر تشویش ہے، ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ قریب آ رہا ہے، اس ضمن میں جلد کچھ کرنا ہوگا، بابر اعظم کے بطور کپتان اعتماد میں اضافہ ہوا، امید ہے آئندہ وہ مزید بہتر ہوتے جائیں گے۔

کئی کھلاڑیوں کو ٹورز میں صرف سیر کرانے کے سوال پر انھوں نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال کی وجہ سے بڑے اسکواڈز منتخب ہورہے ہیں۔ اسی لیے ہمارے پاس بھی موقع ہوتا ہے کہ ان پلیئرز کو ساتھ لے کر جائیں جو مستقبل میں ٹیم کی ضرورت ہوسکتے ہیں، جونیئرز کو اسکواڈ کے ساتھ رہتے ہوئے انٹرنیشنل کرکٹ کے ماحول سے آگاہی کا موقع بھی ملتا ہے، انگلینڈ کیخلاف سیریز سے قبل پلان کو حتمی شکل دیتے ہوئے ورلڈکپ کیلیے ممکنہ پلیئرز کو ہی کھلائیں گے۔

محدود اوورز کی کرکٹ میں ٹاپ آرڈر کی کارکردگی اچھی ہے،بابر اعظم، محمد رضوان اور فخرزمان نے بہترین فارم کا مظاہرہ کیا، بولنگ میں ہماری اچھی پیس بیٹری بن گئی، شاہین شاہ آفریدی اور حسن علی کی کارکردگی سب کے سامنے ہے، حارث رؤف بھی وکٹیں حاصل کررہے ہیں، محمد حسنین پختہ کار ہورہے ہیں، آخری اوورز میں بھی انھوں نے اچھی بولنگ کی، فہیم اشرف نے زبردست پرفارم کیا، محمد نواز نے اسپن کا شعبہ اچھا سنبھالا، عثمان قادر نے بھی ساتھ دیا، شاداب خان بھی فٹ ہوکر دستیاب ہوں گے، البتہ مڈل آرڈر نا تجربہ کار ہے، اس کو وقت دینا ہوگا۔

انھوں نے کہاکہ نئے کھلاڑیوں کو موقع نہ دینے کی بات ہوتی ہے، ٹیم میں پہلے ہی نوجوان کھلاڑی ہیں، نئے پلیئرز کھلانے کا بار بار بس ایک نعرہ لگایا جاتا ہے، دیکھا جائے تو ابھی تو محمد رضوان بھی نئے ہیں،بیشتر ٹیم تو نوجوانوں کی ہے، ایکدم4 یا 5پلیئرزکو نہیں بدل سکتے، ایک سوال پر مصباح الحق نے کہا کہ اگر جنوبی افریقہ کے ٹاپ پلیئرز نہیں تھے تو یہ ان کا مسئلہ ہے، ہم اپنی پوری ٹیم کیوں نہ کھلاتے، ورلڈکپ پلان کے پیش نظر ہمارے لیے پوری قوت کے ساتھ میدان میں اترنا ضروری تھا تاکہ اندازہ ہو کہ کس حوالے سے کس مقام پر کھڑے ہیں۔

یہ بات بھی دیکھنا چاہیے کہ مسائل کے باوجود محدود اوورز کی کرکٹ میں ہم تینوں سیریز جیتے ہیں،صرف الگ وائٹ بال کوچ کا تقرر کردیا جائے تو وہ بھی فتوحات کی ضمانت نہیں دے سکتا،نوجوان دباؤ کو برداشت کرنے کی صلاحیت حاصل کرتے جائیں تو ٹیم کی کارکردگی میں بہتری آتی جائے گی۔

ایک سوال پر ہیڈکوچ نے کہا کہ ایک مضبوط سلیکشن کمیٹی موجود ہے، سارا کچھ میرے ہاتھ میں نہیں، کوئی بھی دوڑ سے باہر نہیں ہوا، سب کے ناموں پر غور کیا جائے گا، مل بیٹھ کر امکانات پر بات کرتے ہوئے دورہ انگلینڈ سے قبل پلان کو حتمی شکل دے دیں گے،وائٹ بال کرکٹ میں پرفارم نہ کرنے والوں کیلیے پی ایس ایل ایک موقع ہے کہ فارم اور فٹنس ثابت کرکے اپنا کیس مضبوط کریں۔

یاد رہے کہ پاکستان ٹیم کو8 سے 20 جولائی تک انگلینڈ کا دورہ کرتے ہوئے 3ون ڈے اور اتنے ہی ٹی ٹوئنٹی میچزکھیلنا ہیں۔