شعیب ملک کا مینجمنٹ پر پسند، ناپسند کی بنیاد پر ٹیم منتخب کرنے کا الزام

قومی ٹیم کی زمبابوے کے خلاف ٹی20 میچ میں شکست پر جہاں شائقین نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے، وہیں اس ہار پر موجودہ اور سابق کرکٹرز نے بھی خراب کارکردگی پر قومی ٹیم اور مینجمنٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

زمبابوے نے سیریز کے دوسرے ٹی20 میچ میں پاکستان کو فتح کے لیے 119 رنز کا ہدف دیا لیکن پوری پاکستانی ٹیم 99 رنز ہر ڈھیر ہو گئی اور زمبابوے نے میچ جیتنے کے ساتھ سیریز بھی 1-1 سے برابر کردی۔

واضح رہے کہ ریکارڈ کئی سیریز تک ناقابل شکست رہنے والی قومی ٹیم کی کارکردگی خصوصاً مڈل آرڈر بلے بازوں کی ناکامی نے ٹی20 ورلڈ کپ کے لیے گرین شرٹس کی تیاریوں پر بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

قومی ٹیم کی اس شکست پر شائقین کرکٹ شدید غم و غصے کا شکار ہیں جبکہ کرکٹرز اور ماہرین کرکٹ نے بھی اس شکست پر ٹیم کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔تنقید کرنے والوں کی فہرست میں شعیب ملک بھی شامل ہیں جو مکمل فٹ ہونے کے باوجود ایک عرصے سے قومی ٹیم میں جگہ بنانے سے قاصر ہیں۔

شعیب ملک نے فیس بک پر اپنے پیغام میں کہا کہ ناتجربہ کار فیصلہ سازوں کو تحمل مزاجی سے بیٹھ کر سوچنے کی ضرورت ہے، بابر اعظم اور مصباح الحق ہی یہ فیصلے لے سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں پاکستان کو ایک انٹرنیشنل وائٹ بال کوچ کی ضرورت ہے جو کرکٹ کو بھرپور طریقے سے سمجھتا ہو اور کپتان کو تیار کرنے کے ساتھ ساتھ کھلاڑیوں کو آنے والے دور کے بارے میں بتا سکے۔

آخری مرتبہ گزشتہ سال یکم ستمبر کو انگلینڈ کے خلاف قومی ٹیم کی نمائندگی کرنے والے تجربہ کار آل راؤنڈر نے قومی ٹیم کی موجودہ مینجمنٹ پر پسند اور ناپسند کا الزام عائد کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایک ایسے دور میں جب آپ کی کرکٹ کی بقا خطرے میں ہو لیکن اس کے باوجود ٹیم مینجمنٹ پسند اور ناپسند پر انحصار کر رہی ہو تو پھر بحیثیت قوم آپ اور کیا توقع کر سکتے ہیں۔شعیب ملک نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پسند اور ناپسند کے مسئلوں کے ساتھ ساتھ آپ کپتان کو بھی فیصلے نہیں کرنے دیتے تو پھر یہ تو ہونا ہی تھا۔

واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی کھلاڑی نے دوٹوک الفاظ میں موجودہ ٹیم مینجمنٹ پر سوالات اٹھائے ہوں بلکہ اس سے قبل محمد عامر بھی ایسا کر چکے ہیں۔

محمد عامر نے نے احتجاجاً انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ موجودہ مینجمنٹ کے ساتھ کرکٹ نہیں کھیل سکتے۔ان کا کہنا تھا کہ جب تک مصباح الحق اور وقار یونس ٹیم مینجمنٹ کے ساتھ ہیں، اس وقت تک میں نہیں کھیلوں گا۔عامر نے الزام عائد کیا تھا کہ انہیں منصوبے کے تحت سائیڈ لائن کیا گیا اور ان کے بارے میں تاثر قائم کیا گیا کہ وہ ملک کے لیے نہیں کھیلنا چاہتے۔