ورلڈکپ 1992: کپتان نے کیا ٹاسک دیا تھا؟ جانئے فائنل کے ہیرو وسیم اکرم کی زبانی

کراچی: انیس سو بانوے کے ورلڈ کپ فائنل میں کپتان عمران خان نے وسیم اکرم کو کیا ٹاسک دیا تھا؟ کراچی کنگز کے صدر نے تاریخی فتح سے متعلق بڑا انکشاف کیا ہے۔

خصوصی گفتگو میں وسیم اکرم نے بتایا کہ فائنل سے ایک رات قبل خوشی سے نیند نہیں آرہی تھی، فائنل میں ہمارا مقابلہ دنیا کی نمبر ون ٹیم انگلینڈ سےتھا، فتح کے ٹریک پر آنے کے بعد عمران خان نے ہمارے ذہنوں میں نقش کردیا تھا کہ ہم ورلڈ کپ جیتیں گے۔

وسیم اکرم نے بتایا کہ سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ کو ہرانے کےبعد یقین تھا کہ ورلڈ چیمپین بن جائیں گے، ڈریسنگ روم میں عمران خان کھلاڑیوں سے کہتے رہتے تھے کہ ہمت نہ ہارو ہم ورلڈ کپ جیتیں گے۔

خصوصی گفتگو میں وسیم اکرم نے بتایا کہ 249 رنز کا ٹارگٹ دینے کے بعد بولنگ کی باری آئی، عمران خان نے میرے ہاتھ میں بال تھمائی اور کہا کہ پورا زور لگاؤ اور دو وکٹیں لیکر دو، اس روز بال ریورس ہورہاتھا مجھےیقین تھا کہ دونوں کھلاڑیوں کو آؤٹ کردونگا۔

کراچی کنگز کے صدر نے بانوے کا ورلڈکپ جیتنے کو اپنی زندگی کا سب سے بڑادن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ورلڈ کپ جیتےتو پاکستان پہنچ کر اندازہ ہوا کہ ورلڈ چیمپن بنے ہیں، عوام کی جانب سے والہانہ استقبال کبھی فراموش نہیں کرسکتا۔

وسیم اکرم نے خصوصی گفتگو میں کہا کہ عمران خان ایماندار ہمت والے وزیر اعظم ہیں، عمران خان اللہ کے سوا کسی سےنہیں دڑتے، ہمیں عمران خان کوسپورٹ کرناہوگا وہ ضرورکامیاب ہوں گے اور پاکستان کو دنیا کی سب سےبڑی سپرپاوربنائیں گے۔

واضح رہے کہ بانوے ورلڈ کپ کے ہیرو وسیم اکرم نے فائنل میں انگلینڈ کے ایلن لیمب اور اگلی ہی گیند پر کرس لیوز کو پویلین کی راہ دکھا کر انگلش بلے بازی کی کمر توڑ دی تھی، وسیم اکرم کو 33 رنز اور 3 وکٹیں حاصل کرنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا تھا۔