کپتان اور چیف سلیکٹر میں اختلافات معمول کی بات ہے: وسیم اکرم

قومی ٹیم کے سابق کپتان اور پی سی بی کی جانب سے بنائی گئی کرکٹ کمیٹی کے رکن وسیم اکرم نے اپنی ہی کمیٹی پر سوالات اٹھا دیے۔ کراچی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وسیم اکرم کا کہنا تھا کون سی کرکٹ کمیٹی؟ جس کا سال میں ایک اجلاس ہوتا ہے۔

شرجیل خان سے متعلق سوال پر وسیم اکرم کا کہنا تھا اس میں کوئی شک نہیں کہ شرجیل خان ایک میچ ونر کھلاڑی ہے، اس نے مجھ سے وعدہ کیا ہے وہ اپنی فٹنس پر کام کرے گا، شرجیل خان کو اپنی فٹنس انٹرنیشنل معیار کے مطابق کرنا ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کو بائیو سکیور ببل میں مشکلات کا سامنا ہے، خود دو ہفتے بائیو سکیورببل میں رہا، مجبوری ہے برداشت کرنا پڑے گا۔

قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم اور چیف سلیکٹر محمد وسیم کے درمیان اختلافات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وسیم اکرم کا کہنا تھا ٹیم کے انتخاب پر چیف سلیکٹر اور کپتان میں بحث ہونا اچھی بات ہے، کسی کی رائے پر اختلاف کرنا معمول کی بات ہے، اسے میڈیا پر اتنا بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں کسی کے کام میں مداخلت نہیں کرتا، بورڈ میں ہوں نہ پاکستان ٹیم میں، باہر رہ کر بھی اگر میرا اثر و رسوخ ہے تو مجھے شاباش ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چیف سلیکٹر کو فون کر کے نہیں کہتا کہ کس کو لو،کس کو نہیں، میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے، ایسی خبریں پھیلانے والے فارغ لوگ ہیں۔