ٹیسٹ سیریز جیت کر بھی یونس خان ‘بیٹسمینوں’ سے پریشان

پاکستان کرکٹ ٹیم کے بیٹنگ کوچ یونس خان کا کہنا ہے کہ بیٹسمینوں کا تسلسل کے ساتھ نہ کھیلنا سب کے پریشان کن ہے، عمران بٹ اور عابد علی کو اسپورٹ کرنے کی ضرورت ہے, ایک دو سیریز کے بعد ڈراپ نہیں کر دینا چاہیے۔

سابق کپتان نے ورچوئل پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ٹیم نے اچھی ہوم سیریز جیتی، ہم سب کی خواہش ہے کہ پاکستان میں ٹیسٹ کرکٹ زیادہ سے زیادہ ہو اس سے کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتیں سامنے لانے کا موقع ملتا ہے۔یونس خان نے کہ ٹیسٹ میں ٹیم اچھا کھیلی اور ٹی ٹونٹی کے لیے اچھا مومنٹم بنا ہوا ہے اور مورال بھی بلند ہے۔یونس خان نے تسلیم کیا کہ بیٹسمینوں میں تسلسل نہیں ہے جو کہ پریشان کن ہے، خاص طور پر اوپنرز اس طرح نہیں کھیل رہے جس طرح توقع تھی۔

انہوں نے کہا کہ ابھی اچھا وقت ہے کہ ہائی پرفارمنس سینٹر میں کھلاڑیوں کی تیکنیک پر کام کیا جا سکے، میں نے پی سی بی سے خود درخواست کی ہے کہ کراچی سینٹر میں سہولیات دی جائیں تاکہ وہاں بیٹسمینوں پر کام کرسکوں۔

انہوں نے کہ مجھے ٹاسک دیا گیا تھا کہ ہمارا لوئر آرڈر اچھا پرفارم کرے لوئر آرڈر نے اچھا کھیلاہم کھلاڑیوں کو بہت متحرک اور بیک کرتے ہیں، عمران بٹ ایک سسٹم سے آئے ہیں عابد علی، شان مسعود اور امام الحق اگر اچھا نہیں کھیلتے تو میڈیا کو انہیں اسپورٹ کرنا ہے، ہمارے دور میں سوشل میڈیا نہ ہونے کی وجہ سے دباؤ نہیں تھا اب کھلاڑیوں کو میڈیا کی جانب سے اسپورٹ کرنے کی ضرورت ہے ہمیں ایک دو سیریز کی بنیاد پر کھلاڑیوں کو باہر نہیں کر دینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: کھلاڑیوں کی ٹیسٹ رینکنگ: بابر اعظم کی بیٹنگ اور حسن علی کی بولنگ میں ترقی

یونس خان نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ اسد شفیق واپس آئیں ان کی کرکٹ باقی ہے۔بیٹنگ کوچ یونس خان نے کہا کہ کھلاڑی بنانے اور ان کی تیکنیک بہتر بنانے میں نیشنل ہائی پرفارمنس سینٹر کا بڑا کردار ہے، جو کھلاڑی اچھا نہیں کر رہے ان پر کام کرنا ہو گا۔

سابق کپتان کے مطابق نیشنل ہائی پرفارمنس سینٹر کو اپنی اتھارٹی منوانا ہو گی، نیشنل ہائی پرفارمنس سینٹر کا کوچ ہوتا تو اپنی اتھارٹی منواتا، شان مسعود اور اسد شفیق کہاں ہیں ان پر نیشنل ہائی پرفارمنس سنٹر میں کیا کام کیا گیا؟

انہوں نے کہا کہ انگلینڈ جانے سے پہلے نیشنل ہائی پرفارمنس سینٹر کو پلان بنا کر دیا، پلان پلئیرز کے بارے میں تھا لیکن کچھ نہ ہوا۔انہوں نے کہ ٹی ٹوئنی سیریز جیتنے کے لیے ہمیں اچھی کرکٹ کھیلنا ہو گی، ہمیں ٹی ٹونٹی سیریز کو آسان نہیں لینا چاہیے۔