اوپننگ مسائل ٹیم مینجمنٹ کیلیے دردسر بن گئے

لاہور: اوپننگ مسائل ٹیم مینجمنٹ کیلیے درد سر بن گئے جب کہ گذشتہ 2سال میں چھٹی جوڑی کا تجربہ بھی ناکام ہوگیا۔

قومی ٹیسٹ ٹیم میں مختلف تجربات ہو چکے مگر اوپننگ کے مسائل بدستور حل طلب ہیں، اس میں تازہ اضافہ جنوبی افریقہ کیخلاف کراچی ٹیسٹ میں دیکھنے میں آیا،گذشتہ 2 سال میں پاکستان نے چھٹے اوپننگ پیئر کو میدان میں اتارا، جنوری 2019میں دورہ جنوبی افریقہ میں امام الحق کے ساتھ فخرزمان کو کھلانیکا تجربہ کامیاب نہ ہونے پر دوسرے میچ میں جارح مزاج اوپنر کو باہر بٹھاکر شان مسعود کو شامل کیا گیا۔

اسی سال نومبر میں دورہ آسٹریلیا میں شان اور اظہر علی نے اننگز کا آغاز کیا، دوسرے ٹیسٹ میں کپتان اظہر کی جگہ امام الحق آئے، دسمبر میں سری لنکا کیخلاف ہوم سیریز کے ایک میچ میں عابد علی اور دوسرے میں شان مسعود نے سنچری بنائی،گذشتہ سال فروری میں بنگلہ دیش کیخلاف بھی اوپنر نے تھری فیگر اننگز کھیلی،عابدکھاتہ نہ کھول پائے،دورئہ انگلینڈ میں شان مسعود نے ایک سنچری بنائی مگر دیگر میچز میں ناکام رہے، عابد علی نے گرتے پڑتے ایک ففٹی بنائی۔
دسمبر، جنوری کے دورئہ نیوزی لینڈ میں دونوں اوپنرز ناکام رہے، عابد نے تھوڑا وقت کریز پر گزارا، شان مسعود یکسر ناکام رہنے کی وجہ سے اسکواڈ سے ہی باہر ہوگئے،جنوبی افریقہ کیخلاف کراچی ٹیسٹ میں عابد علی کے ساتھ ڈومیسٹک پرفارمر عمران بٹ کو موقع دیا گیا لیکن دونوں پہلی اننگز کے بعد دوسری میں بھی ناکام رہے،مجموعی طور پر دونوں باریوں میں عابد علی نے 14 اور عمران بٹ نے 21رنز بنائے۔

سیریز سے قبل عابد علی کے ساتھ اظہر علی سے اننگز کا آغاز کرانے کی تجویز زیر غور آئی تھی مگر فیصلہ اس کے برعکس ہوا، راولپنڈی ٹیسٹ میں بھی اس کا موقع ہوگا مگر ابھی کچھ فائنل نہیں ہوا۔

اس حوالے سے سابق ٹیسٹ کرکٹر رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ اوپنرز کی ناکامی کے سبب پہلے ہی اظہر علی کو جلد کریز پر آنا پڑ جاتا ہے، بہتر ہوگا کہ انھیں اننگز کے آغاز کیلیے ہی بھیج دیا جائے،انھوں نے بطور اوپنر کھیلتے ہوئے ہی ویسٹ انڈیز کیخلاف ٹرپل اور آسٹریلیا میں ڈبل سنچری بنائی تھی،تجربہ کار بیٹسمین اننگز کا آغاز کرنے کیلیے آئیں تو مڈل آرڈر پر دباؤ بھی کم ہوگا۔

دوسری جانب سابق کپتان انضمام الحق نے کہا ہے کہ دوسرے ٹیسٹ سے پہلے پاکستان کو اوپننگ کے مسائل پر قابو پانا ہوگا، بلاشبہ کراچی کی پچ بیٹنگ کیلیے زیادہ سازگار نہیں تھی مگر اوپنرز کو رنز کرنے ہوں گے تاکہ آئندہ میچز میں مڈل آرڈر پر دباؤ کم ہو، انھوں نے عابدعلی اور عمران بٹ کو مزید موقع دینے کی حمایت کردی، ان کا کہنا ہے کہ سینئر اوپنر بڑا اسکور کرنے کا ہنر جانتے ہیں جبکہ عمران بٹ نے ابھی ایک ہی میچ کھیلا ہے۔