44 ٹیسٹ میچز میں زیادہ شکار، یاسر شاہ نے ڈینس للّی کا 40 سالہ ریکارڈ توڑ دیا

ڈینس للّی نے 1971ء میں اپنے ٹیسٹ ڈیبیو کے بعد 1981ء تک اتنے ٹیسٹ میچز میں 229 شکار کررکھے تھے، اس فہرست میں وقار یونس 227 وکٹوں کے ساتھ چوتھے اور ڈیل سٹین 224 وکٹوں کے ساتھ 5 ویں نمبر پر موجود ہیں۔

یاد رہے کہ نیشنل سٹیڈیم، کراچی میں کھیلے جارہے ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کی پہلی اننگز میں 220 رنز کے جواب میں پاکستانی ٹیم 378 رنز بنانے میں کامیاب رہی اور میزبان ٹیم کو 158 رنز کی برتری حاصل کی۔

دوسری اننگز میں مہمان ٹیم کی جانب سے ڈین ایلگر اور ایڈن مارکرم نے اننگز کا آغاز کیا۔ ایلگر 29 رنز بنانے کے بعد یاسر شاہ کا شکار بن گئے جس کے بعد مارکرم اور وین ڈیر ڈسن نے محتاط انداز میں بیٹنگ جاری رکھی۔

بابراعظم نے یاسر شاہ کی بولنگ پر مارکرم کا 27 رنز پر کیچ ڈراپ کرکے نئی زندگی دی۔ وین ڈیر ڈسن اور اور ایڈن مارکرم نے 127 رنز کی شراکت قائم کی ،اس دوران دونوں نے اپنی نصف سنچریاں مکمل کیں ،یاسر شاہ نے اس شراکت کا خاتمہ کرتے ہوئے ڈسن کو 64 رنز پر پویلین واپس بھیج دیا، فاف ڈوپلیسی 10 رنز پر یاسر شاہ کا شکار بنے ، اگلے ہی اوور میں ماکرم 74 رنز کی اننگز کھیل کر نعمان علی کا شکار بن گئے۔

قومی ٹیم کی جانب سے یاسر شاہ نے 3 اور نعمان علی نے ایک وکٹ حاصل کی۔ اس سے قبل تیسرے روز پاکستان نے 8 وکٹ کے نقصان پر 308 رنز سے اپنی نامکمل اننگز کا آغاز کیا، حسن علی 24 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے۔ آخری آؤٹ ہونیوالے بیٹسمین نعمان علی تھے جو 24 رنز بناکر مہاراج کا شکار بنے۔ یاسر شاہ 38 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے۔
یہ بھی پڑھیں:صبح آتے ہی جلد وکٹیں اڑائیں گے‘‘

جنوبی افریقا کی جانب سے کگیسو ربادا اور کیشو مہاراج نے 3،3 جب کہ لنگی نگیدی اور اینرچ نورجے نے 2،2 وکٹیں حاصل کیں۔اس سے قبل پاکستان نے کھیل کے پہلے روز33 رنز پر 4 وکٹیں گنوادیں تھیں تاہم فواد عالم کی شاندار سنچری کی بدولت جنوبی افریقا پر پہلی اننگز میں برتری حاصل ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا۔

اظہر علی اور فہیم اشرف نےذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے نصف سنچریاں سکور کیں۔ اظہر علی 51 رنز پر پوویلین لوٹے جبکہ فہیم اشرف 64 رنز کی اننگز کھیل کر آؤٹ ہوئے۔ کراچی ٹیسٹ کے پہلے روزجنوبی افریقا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے