آئی سی سی نے بڑھتے دباؤ پر ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ کرلیا

سڈنی / ممبئی: انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے بڑھتے دباؤ پر ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ کرلیا،جمعے کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ملتوی کرنے کا باضابطہ فیصلہ سنائے جانے کا امکان ہے، انٹرنیشنل ایونٹ کے التوا سے بھارت کی ڈومیسٹک آئی پی ایل کا راستہ صاف ہوجائے گا۔

بی سی سی آئی نے پہلے ہی واضح کردیا کہ اپنی لیگ کے حوالے سے مزید انتظار نہیں کرسکتے،ایونٹ کی تیاریاں شروع کررہے ہیں،آسٹریلیا آئندہ برس اکتوبر میں میلہ سجانے کا خواہاں ہے،ادھر بھارتی بورڈ بھی بظاہر اگلے سال کے ایونٹ کی میزبانی سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں دکھائی دیتا۔ تفصیلات کے مطابق آسٹریلوی میڈیا نے دعویٰ کیاکہ رواں برس اکتوبر، نومبر میں شیڈول ٹوئنٹی 20 ورلڈ کپ کو باضابطہ طور پر ملتوی کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے، جمعے کو آئی سی سی بورڈ میٹنگ میں حتمی اعلان کردیا جائے گا۔

اس کے ساتھ ہی آئی پی ایل کے رواں برس انعقاد کیلیے بھارتی بورڈ کو وہ ونڈو مل جائے گی جس پر شروع سے ہی اس کی نظر تھی، اسی کی خاطر وہ آسٹریلیا میں شیڈول ایونٹ کے التوا کیلیے کوشش کررہا ہے،رپورٹ میں کہا گیاکہ چونکہ بھارت میں کورونا وائرس کی صورتحال کافی تشویشناک ہے۔
اس لیے ایونٹ کو یو اے ای یا سری لنکا منتقل کیا جا سکتا ہے،بھارتی ٹیم ستمبر میں محدود اوورز کے میچز کیلیے آسٹریلیا کا رخ کرے گا۔آئی سی سی کی جمعے کی میٹنگ میں ملتوی شدہ ٹورنامنٹ کو ری شیڈول کیے جانے کا امکان نہیں مگر کرکٹ آسٹریلیا کی خواہش ہے کہ اسے آئندہ برس اکتوبر میں ٹی 20 ورلڈ کپ کی میزبانی ملنا چاہیے،2021 کا ایونٹ بھارت میں ہونا ہے اور بظاہر بی سی سی آئی کا میزبانی سے دستبردار ہونے کا کوئی ارادہ نہیں لگتا،اس صورت میں آسٹریلیا کو میگا ایونٹ کی میزبانی کے لیے 2022 تک کا انتظار کرنا پڑسکتا ہے۔

اگر آئی پی ایل رواں برس ہوئی اور آسٹریلوی ٹیم ستمبر میں انگلینڈ جاتی ہے تو پھرکھلاڑی وہاں سے ہی براہ راست بھارت، یواے ای یا سری لنکا آئی پی ایل میں شرکت کیلیے جا سکتے ہیں،اس صورت میں وہ ڈبل قرنطینہ سے بچ جائیں گے۔

دوسری جانب بھارتی بورڈ نے آئی سی سی کی جانب سے ورلڈ کپ کے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں مسلسل تاخیر سے تنگ آکر اپنے ایونٹ کی تیاریاں شروع کردی ہیں، خازن ارون دھمل نے کہاکہ اس سال کا آغاز ہی خوفناک انداز میں ہوا،کسی جانب سے کوئی اچھی خبر نہیں ہے،مگر ہمیں خود کو ہر قسم کی صورتحال کے لیے تیار رکھنے کی ضرورت ہے،کرکٹ بھی مختلف نہیں اس لیے بھارتی بورڈ نے بھی مستقبل کی تیاری شروع کردی ہے۔