اسد شفیق قومی ٹیم میں واپسی کیلیے پُرعزم

اسد شفیق نے ریکارڈ قابل رشک نہ ہونے کی وجہ چھٹے نمبر پر بیٹنگ کو قرار دے دیا،ٹیسٹ بیٹسمین کا کہنا ہے کہ وکٹ کیپر اور ٹیل اینڈرز کے ساتھ کھیل کر بڑے اسکور کرنے کا موقع نہیں ملتا، ڈراپ ہونے پر پریشانی تو ہوئی مگر قومی ٹیم میں واپسی کیلیے پْرعزم ہوں،محمد یوسف نے ذہنی مضبوطی پر توجہ دینے کی ہدایت دی۔

10سال کرکٹ کھیلنے کے باوجود ٹاپ بیٹسمینوں میں شمار نہ ہونے کے سوال پر اسد شفیق نے کہا کہ دنیا کے نمایاں کرکٹرز میں چھٹے نمبر پر بیٹنگ کرنے والا کوئی نہیں ہے، میری 70 فیصد اننگز اسی نمبر پر ہیں، ساتھ دینے کے لیے وکٹ کیپر اور ٹیل اینڈرز ہوتے ہیں، بڑے اسکور کرنے کا موقع کم ملتا ہے۔

اس کے باوجود چھٹے نمبر پر بیٹنگ کرنے والوں میں میرا ریکارڈ بہتر ہے،البتہ یہ بات درست ہے کہ میں اپنی صلاحیتوں کے مطابق کارکردگی نہیں دکھا پایا، یونس خان اور مصباح الحق کے بعد اظہر علی کے ساتھ مل کر توقعات کا بوجھ نہیں اٹھا سکا،اب کم بیک کا موقع ملا تو بطور سینئر پلیئر ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کی کوشش کروں گا۔ 77 ٹیسٹ میچز کھیلنے والے اسد شفیق نے پہلی بار قومی ٹیم سے ڈراپ ہونے پر کہا کہ پریشانی تو ہوئی مگر جو ہوتا ہے اچھے کیلیے ہوتا ہے۔

میں اسے بڑے مثبت انداز میں ایک چیلنج کے طور پر لیا،قائد اعظم ٹرافی میں بہت زیادہ غیر معمولی پرفارمنس تو نہیں دکھا سکا، بہرحال بہتری کی جانب گامزن ہوں، کوشش کروں گا کہ بڑے اسکور بناؤں، گذشتہ ڈیڑھ یا2 سال ٹیسٹ کرکٹ میں ففٹیز کو سنچری میں تبدیل نہیں کر پایا، اس خامی پر بھی قابو پانے کی کوشش کروں گا۔

پرفارمنس کا گراف گرنے کی وجوہات کے سوال پر انھوں نے کہا کہ تکنیکی مسائل پر دورئہ انگلینڈ میں ہیڈ کوچ مصباح الحق اور بیٹنگ کوچ یونس خان سے بات ہوئی، یوسف نے تکنیک سے زیادہ ذہنی مضبوطی پر توجہ دینے کی ہدایت دی،میں یہی کوشش کررہا ہوں۔ اسد نے کہا کہ ڈومیسٹک ون ڈے کرکٹ میں میری کارکردگی اچھی رہی، سنچریاں بھی بنائیں، ٹیم کو جتوایا،واپسی میرے ہاتھ میں نہیں ہے، بہرحال میں نے کبھی خود کو کسی ایک فارمیٹ تک محدود نہیں کیا۔

بیٹنگ کوچ بن کر یونس کا مزاج بدل گیا،ہنسی مذاق کرنے لگے

اسد شفیق کا کہنا ہے کہ بیٹنگ کوچ بن کر یونس خان کا مزاج بدل گیا، وہ جب قومی ٹیم میں ہمارے ساتھ کھیلتے تو بڑے سنجیدہ رہتے اور ہنسی مذاق بالکل نہیں کرتے تھے،اب بطور کوچ مختلف شخصیت ہیں،یونس ہر کھلاڑی کیساتھ گھلنے ملنے کی کوشش کرتے ہیں، پلیئر کی سوچ کو سمجھتے ہوئے اس کا مسئلہ حل کرنے کی کوشش ہوتی ہے، وہ انگلینڈ میں مجھے بھی مشورے دیتے رہے، بیٹسمینوں کیلیے یونس سے سیکھنے کا بہترین موقع ہے۔