بابراعظم ورلڈ کلاس کھلاڑی ،کپتانی کا بوجھ نہیں ڈالنا چاہیئے تھا:خالد محمود

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین خالد محمود کا کہنا ہے بابراعظم کے ورلڈ کلاس کھلاڑی ہونے میں کوئی شک نہیں لیکن ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ کیا ایک بڑے بلے باز پر کپتانی کی ذمہ داری ڈالنا مناسب ہوگا۔

اس وقت پاکستان کے پاس عالمی میعار کا صرف ایک ہی بلے باز ہے جس کا نام بابراعظم ہے۔ خالد محمود کا کہنا تھا کہ دنیا کے کئی ٹیموں نے اپنی ٹیم کے بہترین کھلاڑی کو کپتانی سونپی لیکن پھر اسے ہٹانا پڑا، اس کی سب سے بڑی مثال لیجنڈری بھارتی بلے باز سچن ٹنڈولکر ہیں،ان جیسا بلے باز کو کوئی نہیں آیا لیکن جب انہیں کپتانی کی ذمہ داری دی گئی تو ان کی بیٹنگ پر فرق پڑنا شروع ہوگیا جس کے بعد ان سے کپتانی واپس لے لی گئی ، سابق برطانوی آل رائونڈر این بوتھم کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا ،اور کئی بڑے کھلاڑیوں کی مثالیں بھی دی جاسکتی ہیں۔

خالد محمود کو کہنا تھا کہ پی سی بی کو بابراعظم کو کپتان بنانے میں جلدی نہیں کرنی چاہیئے تھی لیکن سمجھ سکتا ہوں کہ کرکٹ بورڈ کی بھی اپنی مجبوریاں تھیں کیوں کہ اظہر علی کی پرفارمنس اچھی نہیں تھی۔ خالد محمودکا کہنا تھا کہ ہمارے نظام کی کمزوریاں کھل کر سامنے آگئی ہیں، اگر ہمارا کرکٹ سٹرکچر مضبوط ہوتا تو ڈومیسٹک سرکٹ میں 4،5 کپتان نظر آجاتے لیکن ایک بھی نہیں مل رہا،یہاں کامیاب کپتان کا نام بھی لینا مشکل ہوتا ہے۔

سابق چیئرمین پی سی بی کا کہنا تھا کہ ہمیں عزت کے ساتھ اپنی ٹیم نیوزی لینڈ بھیجنی چاہیئے تھی، ہمیں آج سٹیٹس نہیں ملا ، 68 سال سے کرکٹ کھیل رہے ہیں ،اب مشکل وقت ختم ہوگیا اور کھلاڑیوں کو کرکٹ پر فوکس کرنا چاہیئے ۔ ‏خالد محمود کا مزید کہنا تھا کہ جنوبی افریقہ اور انگلنیڈ کی ٹیمیں پاکستان آرہی ہیں، ہم نے بھی کرونا کے دوران انگلینڈ کا دورہ کیا، اگر ہم ان کے ملک جاسکتے ہیں تو دوسری ٹیموں کو بھی یہاں بلا جھجک آنا چاہیے،اب تو دہشتگردی والا بہانہ بھی ختم ہوچکا۔

سابق چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا تھا کہ بھارت کے خلاف سیریزسیاسی معاملہ ہے، پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرنا چاہیے، پی سی بی کو آئی سی سی میں یہ معاملہ بار بار اٹھانا چاہیے کہ اگر کھیل اور سیاست الگ نہیں رکھنی تو کرکٹ کو خیر باد کہہ دیں۔