بھارت کے ساتھ کھیلنے کیلئے تیار ہیں: وسیم خان

چیف ایگزیکٹیو پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) وسیم خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) بھارت کے ساتھ کھیلنے کے لیے تیار ہے۔ ایک انٹرویو میں وسیم خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سیریز کے راہ میں سیاسی مسائل حائل ہیں ، بی سی سی آئی پاکستان سے کھیلنے کیلئے اپنی حکومت سے اجازت لینے پر مجبور ہے ، ایسی صورت حال میں بھارت سے سیریز کھیلنا بہت مشکل ہے۔

وسیم خان کا مزید کہنا تھا کہ چیئرمین کرکٹ کمیٹی اور قومی سلیکشن کمیٹی کا اعلان آئندہ ہفتے تک کردیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم 2021ء اور اس کے بعد انگلینڈ کی ٹیمیں پاکستان کا دورہ کریں گی ، دسمبر 2021ء میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم پاکستان کا دورہ کرے گی۔
یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ نے نئے فیوچر ٹور پروگرام میں پہلی مرتبہ بھارت کیخلاف سیریز کو شامل نہیں کیا جسکا مطلب یہ ہے کہ ڈیڑھ ارب شائقین اب پاکستان اور بھارت کو مستقبل قریب میں ٹیسٹ کرکٹ میں ان ایکشن نہیں دیکھ سکیں گے۔

بھارتی کرکٹ بورڈ کو اگلے 3 سالوں کے دوران ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ اور ون ڈے ورلڈ کپ کی میزبانی کرنی ہے ۔ پی سی بی 2023ء سے 2027ء تک بھارت کیخلاف سیریز کے بغیر نئے فیوچر ٹور پروگرام سائیکل کی تیاری کررہا ہے اور بھارت کو شامل نہیں کیا گیا۔ گزشتہ فیوچر ٹورز پروگرام میں بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان سیریز نہیں ہوسکی تھی حالانکہ پاکستان نے سیریز کیلئے ونڈو چھوڑی ہوئی تھی۔

بی جے پی سرکار اور اسکے زیر اثرکرکٹ بورڈ کی ہٹ دھرمی کو دیکھتے ہوئے پی سی بی نے اب اپنے فیوچر ٹور پلان سے روایتی حریف کو خارج کرکے اس کی جگہ دیگر ٹیموں کو شامل کرنیکا فیصلہ کیا ہے تاکہ پاکستان کو کم سے کم مالی نقصان ہو۔ نئے 4 سالہ فوچر ٹورز پروگرام میں چیئرمین پی سی بی احسان مانی کی ہدایت کے پیش نظر پاکستانی ٹیم کم از کم 3 ٹیسٹ میچز کی سیریز کھیلے گا، پی سی بی کی موجودہ ایف ٹی پی میں دو دو ٹیسٹ کی کئی سیریز ہیں اور اسی لیے نئے ایف ٹی پی میں 2 ٹیسٹ میچز کی سیریز کی حوصلہ شکنی کی جارہی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان 2007ء کے بعد سے کوئی مکمل دو طرفہ سیریز نہیں ہوسکی ۔ 2013ء میں پاکستان ون ڈے اور ٹی ٹونٹی سیریز کھیلنے بھارت گیا تھا لیکن بھارت نے2008ء کے ایشیاء کپ کے بعد پاکستان میں کوئی میچ نہیں کھیلا۔ 2006ء میں بھارت نے آخری مرتبہ سیریز کھیلنے کے لیے پاکستان کا دورہ کیا تھا ۔ پی سی بی کئی مرتبہ بی سی سی آئی کو کھیل اور سیاست علیحدہ رکھنے کا کہ چکا ہے تاہم بی جے پی کے زیر اثر بھارتی کرکٹ بورڈ حکومتی ہدایت پر پاکستان کے ساتھ سیریز کھیلنے سے کئی مرتبہ انکار کرچکا ہے۔

پی سی بی چیئرمین احسان مانی متعدد مرتبہ کہ چکے ہیں کہ بھارت سے کھیلنے کی وجہ سے پاکستان کو بھارتی مالی نقصان ہوتا ہے لیکن اب پی سی بی نے اس بارے میں سوچنا چھوڑ دیا ہے اور پاکستان اب بھارت کے بغیر بھی کرکٹ جاری رکھے گا۔ یاد رہے کہ 2014ء میں بگ 3 معاہدے کے بعد بھارت نے پاکستان کے ساتھ 6 سیریز کھیلنے سے گریز کیا جس سے پی سی بی کو اربوں ڈالرز کا نقصان ہوچکا ہے۔