گلے کی خراش بتانا گلے پڑ گیا، اسسٹنٹ کوچ کو آکلینڈ میں روک لیا گیا

کراچی: پاکستان کرکٹ ٹیم نیوزی لینڈ پہنچتے ہی مشکل میں پڑ گئی، اسسٹنٹ کوچ شاہد اسلم کو آکلینڈ ایئرپورٹ پر روکے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
نیوزی لینڈ روانگی سے قبل پاکستانی اوپنر فخر زمان کو بخار کی وجہ سے دورے سے دستبردار کرا لیا گیا تھا، بعد میں ان کا کورونا ٹیسٹ کلیئر آیا مگر نیوزی لینڈ کے قوانین کی وجہ سے اب وہ ٹیم کو جوائن نہیں کر سکتے،مینجمنٹ کوئی متبادل بھی نہیں بلا سکتی۔

اب نیا انکشاف سامنے آیا ہے کہ اسسٹنٹ کوچ شاہد اسلم کو بھی آکلینڈ ایئرپورٹ پر روک لیا گیا اور وہ اب تک وہیں قرنطینہ سینٹر میں مقیم ہیں،ذرائع نے بتایا کہ دبئی سے آکلینڈ روانگی سے قبل پاکستانی اسکواڈز کو جہاز میں چند فارمز دیے گئے، ان میں صحت کے حوالے سے کئی سوالات پوچھے گئے تھے، ایک میں درج تھا کہ کیا آپ کونزلہ، زکام یا بخار کی کوئی کیفیت تو نہیں ہے، اس پر شاہد اسلم نے صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے گلے میں خراش کا ذکر کر دیا۔آکلینڈ آمد کے بعد باقی ٹیم کو تو کرائسٹ چرچ جانے کی اجازت مل گئی مگر شاہد اسلم کوسب سے الگ کرتے ہوئے روک لیا گیا، قرنطینہ سینٹر میں ان کے مزید ٹیسٹ لیے جا رہے ہیں۔شاہد اسلم پی کے فور گروپ کا حصہ ہیں، اس میں کرکٹرز بابر اعظم،شاداب خان، محمد حفیظ، خوشدل شاہ، محمد رضوان، حسین طلعت، وہاب ریاض، حارث رؤف اورموسیٰ خان کے ساتھ مینجمنٹ کے مصباح الحق، طلحہ اعجاز، ڈاکٹر سہیل سلیم اور ملنگ علی بھی شامل ہیں،دستبردار ہونے والے فخرزمان بھی اسی گروپ کا حصہ تھے۔

نیوزی لینڈ تقریباً کورونا فری ملک اوراس نے سخت ترین قوانین کا نفاذ کیا ہوا ہے،جہاز میں بھی ایک میڈیکل آفیسر نے اسکواڈ پر نظر رکھی تھی، اس سے پہلے زمبابوے سے سیریز اور پی ایس ایل کے دوران ٹور کے ممکنہ کھلاڑیوں کی کورونا ٹیسٹ رپورٹس باقاعدگی سے کیویز کے ساتھ شیئر کی جاتی رہیں۔نیوزی لینڈ پہنچتے ہی فوج کی زیرنگرانی امیگریشن وغیرہ کے بعد پاکستانی ٹیم کو چار گروپس میں تقسیم کیا گیا، کرائسٹ چرچ کی فلائٹ میں بھی ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کے اہلکار ساتھ رہے، کھلاڑیوں کو تین دن ہوٹل رومز میں رہنا ہے، ایس او پیز کے تحت وہ کسی سے ملاقات نہیں کر سکتے، نہ ہی باہر جانے کی اجازت ہے، البتہ قوانین میں تھوڑی نرمی برتتے ہوئے کھلاڑیوں کو گذشتہ روز ہوٹل میں نیچے تازہ ہوا میں چند منٹ چہل قدمی کی اجازت دے دیگئی تھی۔

تین دن بعد اگلے 11 روز وہ اپنے گروپس کے ساتھ ٹریننگ وغیرہ کر سکیں گے،اس دوران کورونا ٹیسٹنگ ہوتی رہے گی۔ یہ سلسلہ مکمل ہونے پر اسکواڈ یکجا ہو جائے گا اور ساتھ ٹریننگ و گھومنے پھرنے کی بھی آزادی ہو گی۔شاہد اسلم کے حوالے سے رابطے پر قومی ٹیم کے میڈیا منیجر ابراہیم بادیس نے کوئی تبصرہ کرنے سے معذرت کر لی۔دوسری جانب گذشتہ روز پاکستانی دستے کے کورونا ٹیسٹ ہو گئے،کمرے کے دروازے پر ہی سیمپلز لیے گئے تھے، ان کی رپورٹس ابھی آنا باقی ہیں۔یاد رہے کہ 14روزہ قرنطینہ مکمل ہونے کے بعد سینئر پاکستانی اسکواڈ ایک بار پھر آکلینڈ جائے گا جہاں پہلا ٹی ٹوئنٹی 18دسمبر کو شیڈول ہے۔