ماضی کے عظیم باکسر مائیک ٹائسن15 سال بعد دوبارہ رنگ میں

کیلیفورنیا : امریکہ کے مایہ ناز باکسر مائیک ٹائسن نے رنگ میں واپسی کا اٹل فیصلہ کرلیا، 15سال بعد واپسی پر انہیں اپنی کامیابی پر آج بھی پورا یقین ہے۔ باکسنگ کی دنیا کے سابق چیمپیئن مائیک ٹائسن اگلے ویک اینڈ پر دوبارہ میدان میں اتر رہے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ آیا برسوں بعد وہ بھرپور مقابلے کی قوت رکھتے ہیں؟

اٹھائیس نومبر کو مائیک ٹائسن کا دوستانہ نمائشی میچ روئے جونز جونیئر کے ساتھ ہو گا۔ باکسنگ کا یہ میچ امریکی ریاست کیلیفورنیا کے بڑے شہر لاس اینجلس میں کھیلا جائے گا۔ ایسے موقع پر شائقین کے ذہنوں میں کئی سوالات گردش کر رہے ہیں کہ کیا مائیک ٹائسن میں اتنی قوت و طاقت ہے کہ وہ اپنی سابقہ پرفارمنس کا مظاہرہ کر سکیں گے؟ کیا ٹائیسن کی صحت پندرہ برس بعد رنگ میں اترنے کے قابل ہے؟ ایسے ہی بہت سارے خدشات شائقین کو گھیرے ہوئے ہیں۔

انساٹا گرام پر مائیک ٹائیسن نے لکھا کہ یہ مقابلہ بہت سخت اور شدید ہو گا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میں نے بعض اوقات میچ ہارے بھی ہیں لیکن اٹھائیس نومبر کو وہ میچ جیت لیں گے۔ اس میچ کے منتظمین نے مقابلے کو ایک نمائشی اور دوستانہ میچ کا درجہ دے رکھا ہے۔ یہ آٹھ راؤنڈز پر مشتمل ہو گا۔ اس میچ کی منظوری کیلیفورنیا کے ایتھلیٹک کمیشن نے بھی دے دی ہے۔

ابتدائی اعلان کے مطابق یہ میچ رواں برس بارہ ستمبر کو ہونا تھا اور امکاناً کورونا وبا کی وجہ سے ملتوی کر دیا گیا تھا۔ مائیک ٹائیسن کو اپنے عروج کے دور میں فولادی مائیک یا ‘آئرن مائیک‘ کی عرفیت حاصل تھی۔ اب اٹھائیس نومبر کو ہی معلوم ہو سکے گا کہ فولادی مائیک میں کتنا فولاد باقی رہ گیا ہے۔ واضح رہے کہ مائیک ٹائسن کو سال1997میں ایک مقابلے ٓکے دوران اپنے حریف ایونڈر ہولی فیلڈ کے دائیں کان کو دانتوں سے کاٹنے کے جرم میں باکسنگ کے شعبے میں نااہل قرار دے دیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ مائیک ٹائسن اپنے دور کے ایک جنونی باکسر تھے انہوں نے 20 سال کی عمر میں ورلڈ باکسنگ کونسل، ورلڈ باکسنگ ایسوسی ایشن اور انٹرنیشنل باکسنگ فیڈریشن کا ورلڈ ہیوی ویٹ ٹائٹل جیت کر نیا ریکارڈ قائم کیا تھا۔ اپنے پورے کیریئر کے دوران انہوں نے 58 مقابلوں میں حصہ لیا۔ ان میں سے 50میں وہ کامیاب رہے جبکہ 6 میں انہیں شکست ہوئی اور دو کا کوئی نتیجہ نہ نکل سکا، انہوں نے44مقابلوں میں اپنے حریفوں کو ناک آؤٹ کیا۔