پی ایس ایل پلے آف کی تیاریاں مکمل، جوش و خروش عروج پر پہنچ گیا

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے پلے آف میچز کے لیے تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں اور ایونٹ کی چار بہترین ٹیموں کے درمیان ٹائٹل کی جنگ سے قبل شائقین کا جوش و خروش عروج پر پہنچ چکا ہے۔کورونا وائرس کے سبب 17 مارچ کو پاکستان سپر لیگ کو غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردیا گیا تھا اور اس وقت پلے آف میچز کا انعقاد ہونا باقی تھا۔تاہم بین الاقوامی سطح پر کھیلوں بالخصوص کرکٹ کی سرگرمیاں بحال ہونے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے ستمبر میں لیگ کے بقیہ میچز کے دوبارہ انعقاد کا اعلان کیا تھا جس کے تحت ایونٹ کے پلے آف میچز 14 نومبر سے دوبارہ منعقد ہوں گے۔

کورونا وائرس کے پیش نظر پی ایس ایل کے پلے آف میچز خالی اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے اور شائقین کو اسٹیڈیم میں داخلے کی اجازت نہیں ہو گی۔پاکستان سپر لیگ 2020 سے سابق چیمپیئن اسلام آباد یونائیٹڈ اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیمیں باہر ہو چکی ہیں اور اب ملتان سلطانز، کراچی کنگز، لاہور قلندرز اور پشاور زلمی کی ٹیمیں چیمپیئن بننے کے لیے ایک دوسرے سے نبرد آزما ہوں گی۔

اس ایونٹ کی خاص بات یہ ہے کہ گزشتہ تمام ایونٹس میں ناکامیوں سے دوچار رہنے والی لاہور قلندرز اور کراچی کنگز کی فرنچائز عمدہ کھیل کی بدولت پہلے ‘پلے آف’ میں جگہ بنانے میں کامیاب رہیں، کراچی کنگز کی ٹیم پہلے بھی پلے آف میں پہنچ چکی ہے لیکن لاہور قلندرز نے یہ اعزاز پہلی مرتبہ حاصل کیا ہے۔

پاکستان سپرلیگ کے پانچویں ایڈیشن کے پلے آف میچز کے لیے فرنچائزڈ ٹیموں کراچی کنگز، ملتان سلطانز، لاہور قلندرز اور پشاور زلمی نے پلے آف تیاری کا آغاز کردیا ہے۔چاروں فرنچائزوں نے کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم اور معین خان اکیڈمی میں پریکٹس سیشن کے آغاز کے ساتھ پریکٹس میچز بھی کھیلنے شروع کردیے۔پلے آف مرحلے میں شرکت کے لیے غیر ملکی کھلاڑی کراچی پہنچ چکے ہیں جہاں ان میچز میں 21 غیرملکی کھلاڑی حصہ لیں گے۔

چاروں ٹیمیں علیحدہ علیحدہ پریکٹس سیشنز میں حصہ لے رہی ہیں تاکہ کورونا وائرس کی وجہ سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ طے شدہ قوانین پر بھی عملدرآمد کیا جا سکے۔ٹیموں کی حفاظت اور میچوں کے پرامن انعقاد کے لیے اسٹیڈیم اور اطراف میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور چاروں فرنچائزوں کے اسکواڈ کو سخت سیکیورٹی فراہم کی جارہی ہے جبکہ پریکٹس کے لیے بھی تمام ٹیموں کو سخت سیکیورٹی دی گئی ہے۔

کراچی کنگز کا کہنا ہے کہ انہیں قومی ٹیم میں شامل تمام کرکٹرز دستیاب ہیں ایلکس ہیلز، چیڈرک ولٹن اور کیمرون ڈیلپورٹ سمیت دیگر کھلاڑی اسکواڈ کو جوائن کر چکے ہیں۔ملتان سلطان کا کہنا ہے کہ انہوں نے پریکٹس کا آغاز کردیا ہے اور ان کے غیرملکی کھلاڑی وقتاً فوقتاً پاکستان آ رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم کے غیرملکی کھلاڑی روی بوپارا، رائلی روسو، ایڈم لائٹ پاکستان آچکے ہیں جبکہ عمران طاہر بھی ایک دن قبل ہی یہاں پہنچے ہیں اور وہ قرنطینہ مکمل کررہے ہیں۔

ملتان سلطانز کا کہنا ہے کہ کووڈ-19 کا شکار ان کے دو غیر ملکی کرکٹر محمود اللہ اور جیمزوینس کی جگہ بریڈن ٹیلر اور جوبلینگز کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے اور یہ کھلاڑی پاکستان پہنچ کر قرنطینہ مکمل کر رہے ہیں۔لاہور قلندرز کے سمین رانا نے بتایا کہ ان کے تمام غیرملکی کھلاڑی آچکے ہیں جن میں سے بین ڈنک قرنطینہ میں ہیں اور ان کا قرنطینہ کا وقت مکمل نہیں ہوا ہے جبکہ دیگر تمام غیرملکی کرکٹرز نے پریکٹس سیشن میں شرکت کی ہے اور تمام کرکٹرز اچھا پرفارم کررہے ہیں۔

لیگ کے بقیہ چار میچوں میں جن چار ٹیموں کا مقابلہ ہو گا ان میں سے صرف پشاور زلمی کی ٹیم پہلے چیمپیئن بننے کا اعزاز رکھتی ہیں جبکہ کراچی کنگز، لاہور قلندرز اور ملتان سلطانز کی ٹیمیں آج تک یہ اعزاز حاصل نہ کر سکی۔14 نومبر کو کوالیفائر میچ ملتان سلطانز اور کراچی کنگز کے درمیان کھیلا جائے گا اور اسی دن پہلے ایلی منیٹر میں لاہور قلندرز اور پشاور زلمی کی ٹیمیں مدمقابل ہوں گی۔15 نومبر کو دوسرے ایلیمنیٹر میں کوالیفائر ہارنے والی ٹیم کا پہلے ایلیمنیٹر کی فاتح ٹیم سے مقابلہ ہوگا جبکہ لیگ کا فائنل 17 نومبر کو منعقد ہو گا۔

لیگ کے پوائنٹس ٹیبل پر ملتان سلطانز کی ٹیم 14پوائنٹس کے ساتھ سرفہرست ہے جبکہ کراچی کنگز 11 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے اور لاہور قلندرز 10 پوائنٹس کے ساتھ تیسرے نمبر پر موجود ہے۔سابق چیمپیئن پشاور زلمی اور دفاعی چیمپیئن کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے یکساں 9 پوائنٹس تھے لیکن بہتر رن ریٹ کی بنیاد پر زلمی فائنل فور میں جگہ بنانے میں کامیاب رہی۔دو مرتبہ کی چیمپیئن اسلام آباد یونائیٹڈ 7 پوائنٹس کے ساتھ آخری نمبر پر رہی۔لیگ کی فاتح ٹیم کو 5 لاکھ ڈالرز کی انعامی رقم دی جائے گی جبکہ رنر اپ کو 2 لاکھ امریکی ڈالرز ملیں گے۔