جب لیجنڈری اداکار گرو دت نے زندگی کو ٹھکرانے کا فیصلہ کیا

کسی بھی فلم کے شوقین سے آپ پوچھیں کہ کیا آپ وسنت کمار شو شنکر پاڈوکون کو جانتے ہیں تو اس کا وہ شاید ہی جواب دے سکیں اور آج کے فلم شائقین بہت کوشش کریں گے تو کہیں گے کہ دیپکا پاڈوکون کے کوئی رشتہ دار ہوں گے۔

لیکن وسنت کمار شو شنکر پاڈوکون کوئی اور نہیں بلکہ انڈین سینیما کے لیجنڈری اداکار اور ہدایت کار و فلم ساز گرو دت ہیں۔ ان کا نام ہر چند کہ بنگالی نظر آتا ہے لیکن وہ بنگالی نہیں تھے بلکہ کرناٹک کے شہر بنگلور میں سنہ 1925 میں پیدا ہوئے تھے البتہ ان کا بچپن کلکتے میں ضرور گزرا تھا۔

گرو دت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے زمانے سے آگے کی فلمیں بناتے تھے چنانچہ مسٹر اینڈ مسز 55 میں جو کردار نظر آتے ہیں وہ آج کی شہری زندگی کی بھی عکاسی کرتے ہیں-سنہ 2010 میں سی این این نے انھیں ایشیا کے آل ٹائم بہترین 25 اداکاروں میں شامل کیا تھا۔ان کے بارے میں یہ بھی کہا گیا کہ وہ فلم سازوں کے لیے فلم بناتے تھے۔

ان کی فلموں کو پونے میں قائم فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا اور دوسرے اداروں میں بطور نصاب شامل کیا گیا ہے۔انھیں ان کی زندگی میں تو بہت زیادہ کامیابی اور شہرت نہ مل سکی لیکن مرنے کے بعد انھیں شہرت دوام حاصل ہوئی۔
انھوں نے ہدایت کار بیڈیکر کے اسسٹنٹ کے طور پر اپنے کیریئر کا آغاز کیا تھا اور وہیں ان کی ملاقات اداکار دیوآنند سے ہوئی اور دونوں زندگی بھر کے لیے دوست بن گئے۔

ان کی ملاقات کی ابتدا بہت دلچسپ ہے۔ دونوں ایک ہی دھوبی سے کپڑے دھلواتے تھے لیکن ایک بار دھوبی نے دونوں کے کپڑے بدل دیے اور جب گرودت نے اپنی قمیض دیوآنند کے بدن پر دیکھی تو انھوں نے پوچھ لیا کہ انھوں نے یہ قمیض کہاں سے خریدی ہے۔ دیوآنند نے کہا کہ دھوبی نے ایک پارٹی میں جانے کے لیے ادھار دی ہے۔

اسی درمیان ان کی نظر گرودت کی قمیص پر گئی جو ان کی تھی تو انھوں نے پوچھ لیا آپ نے کہاں سے خریدی ہے تو گرودت نے جواب دیا چرائی ہے۔ پھر کیا تھا دونوں ہنس پڑے اور ہاتھ ملایا جو تاعمر قائم رہا۔ایک بار دونوں شام رنگین کر رہے تھے تو اس دوران گرودت نے کہا کہ میں جب ہدایت کار بنوں گا تو اپنی پہلی فلم میں تمہیں ہیرو لوں گا۔

اسی ترنگ میں دیو آنند نے جواب دیا کہ جب وہ فلم بنائیں گے تو اپنی فلم کا ہدایت کار وہ گرودت کو بنائیں گے۔ اور جب دیوآنند کے بھائی نے نوکیتن سٹوڈیو قائم کیا تو اس کی پہلی فلم ‘بازی’ کی ہدایت کاری کی ذمہ داری دیوآنند نے گرودت کو دی۔ اس کے بعد سے گرودت نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

گرودت نے انڈین سینیما کو جہاں لازوال فلمیں دیں وہیں انھوں نے دو لازوال اداکار بھی دیے۔ ان میں سے ایک ‘کامیڈی کنگ’ بدرالدین جمال الدین قاضی یعنی جانی واکر تھے اور دوسری اپنے زمانے میں فلم انڈسٹری پر راج کرنے والی اداکارہ وحیدہ رحمان تھیں۔جانی واکر بس کنڈکٹر ہوا کرتے تھے اور معروف اداکار بلراج ساہنی نے انھیں گرودت سے متعارف کرایا تھا۔

وہ جانی واکر سے اس قدر متاثر ہوئے کہ اپنی پہلی ہی فلم میں ان کے لیے بطور خاص کردار تیار کرایا کیونکہ فلم نصف سے زیادہ پوری ہو چکی تھی۔ یہ فلم کامیاب ثابت ہوئی اور اس کے بعد سے جانی واکر ان کی فلموں کا اٹوٹ حصہ بن گئے۔اسی طرح وحیدہ رحمان سے ان کی ملاقات ایک حادثے کا نتیجہ تھی۔ وہ حیدرآباد کے سفر پر تھے جہاں انھیں پیروں میں موچ آ گئی اور اس کی وجہ سے وہ کئی دن وہاں ٹھہر گئے۔ ایک دن وہ ایک تھيٹر میں گئے جہاں انھوں نے وحیدہ رحمان کا ڈانس دیکھا اور ان سے بہت متاثر ہوئے۔

خیال رہے کہ گرودت ڈانس کے بہت شوقین تھے اور انھوں نو عنفوان شباب میں اس کی باقاعدہ تربیت حاصل کی تھی۔
انھوں نے اپنی فلم ‘سی آئی ڈی’ کے لیے وحیدہ رحمان کو دعوت دی۔ وحیدہ رحمان کہتی ہیں کہ اس کے بعد انھوں نے ایک ساتھ تین فلموں کے لیے معاہدہ کرایا تھا جس میں وحیدہ رحمان نے کہا تھا کہ ‘کردار ان کی پسند کے، کپڑے میری پسند کے۔’

لہذا انھوں نے زندگی میں کبھی اپنے جسم کی نمائش نہیں کی۔گرودت کی پہلی ملاقات پلے بیک سنگر گیتا رائے سے فلم ‘بازی’ کے سیٹ پر ہی ہوئی تھی اور دونوں میں محبت ہو گئی تھی اور پھر دونوں نے دو سال بعد سنہ 1953 میں شادی کر لی۔ لیکن وحیدہ رحمان کی آمد کے بعد گیتا دت کو ان پر رشک اور شک ہونے لگا جو جھگڑے کا باعث بنتا رہا اور بات بگڑتی چلی گئی یہاں تک کہ دونوں علیحدہ رہنے لگے۔

گرودت آج سے کوئی 56 سال پہلے اپنی 40 ویں بہار بھی نہ دیکھنے پائے تھے کہ ابدی نیند سو گئے۔ 10 اکتوبر سنہ 1964 سے پہلے والی شب کو وہ معروف مکالمہ نگار اور سکرپٹ رائٹر ابرار علوی کے ساتھ بیٹھے تھے جو ان کی بیشتر فلموں کے مکالمہ نگار اور سکرین پلے رائٹر بھی تھے۔کھانے پینے کے بعد ان میں خوش گپایاں جاری تھیں جو دیر رات تک چلتی رہیں۔
ان میں دونوں نے خودکشی کے طریقوں پر بات کی تھی۔ گفتگو کے دوران دوںوں اس پر غور کر رہے تھے کہ بعض لوگ خودکشی کے لیے نیند کی گولیاں لیتے ہیں لیکن وہ بچ جاتے ہیں۔ اس دوران انھوں نے یہ خیال ظاہر کیا کہ زیادہ مقدار میں اگر نیند کی گولیاں پیس کر اور گھول کر لی جائيں تو موت کا امکان قوی ہو جائے گا۔دوسرے دن دوپہر کے وقت ابرار علوی کو فون کیا گیا کہ گرودت کی طبیعت خراب ہے تو وہ فورا وہاں پہنچے اور دیکھا تو گرو دت ابدی نیند سو رہے تھے اور گلاس کے پیندے میں کوئی زرد قسم کا محلول بچا ہوا تھا۔ ابرار علوی سجھ گئے۔

اس رات کھانے کے وقت گرو دت نے اپنی اہلیہ گیتا کو فون کیا تھا اور بیٹی سے ملانے کی ضد کی تھی اور کہا تھا کہ اگر وہ اسے نہیں لائیں تو وہ ان کا مرا ہوا منہ دیکھیں گی۔ گرودت نے کشمکش زندگی سے تنگ آ کر بے دلی سے اسے ٹھکرانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔’پیاسا’ اگر چہ معروف شاعر ساحر کی زندگی سے متاثر فلم کہی جاتی ہے لیکن

‘کاغذ کے پھول’ کو ان کی سوانحی فلم کہا جاتا ہے جس میں اداکارہ وحیدہ رحمان بھی ہیں۔ان کی معروف فلموں میں چودھویں کا چاند بھی شامل ہے۔ انھوں نے کوئی درجن بھر فلموں میں اداکاری بھی کی جبکہ آٹھ فلموں کی ہدایت کاری کی ۔گرو دت سات فلموں کے فلم ساز رہے۔ آر پار، پیاسا اور کاغذ کے پھول ہی ایسی فلمیں ہیں جن میں وہ اداکار، فلم ساز اور ہدایت کار تینوں تھے۔