خواتین کی خودمختاری میں مرد کا کردار کلیدی ہے، ملالہ یوسف زئی

دنیا کی کم عمر ترین نوبیل انعام یافتہ پاکستانی تعلیمی رہنما اور انسانی حقوق کی کارکن ملالہ یوسف زئی کا ماننا ہے کہ خواتین کی خودمختاری اور آزادی میں مرد حضرات کا کردار کلیدی ہوتا ہے۔

بولی وڈ اداکار ٹوئنکل کھنہ کے ساتھ ان کی جانب سے بنائے گئے ادارے ٹویک انڈیا کے پلیٹ فارم پر آن لائن بات کرتے ہوئے ملالہ یوسف زئی نے کہا کہ ان کی خودمختاری، آزادی اور مشہوری میں بھی ان کے والد کا کردار ہے۔

ملالہ یوسف زئی نے ٹوئنکل کھنہ سے بات کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ کم عمری میں ہی ان کے والد نے ان کی تعلیم پر توجہ دی، کیوں کہ ان کے والد کے خیال کے مطابق تعلیم ہی وہ ہتھیار ہے، جس سے خاتون حقیقی طور پر خود مختار ہوسکتی ہے۔

نوبیل انعام یافتہ کارکن کے مطابق ان کے والد کی 5 بہنیں تھیں اور ان میں سے کوئی بھی اسکول نہیں جا سکی تھی، تاہم ان کے والد نے ان کی تعلیم پر توجہ دی اور انہیں آگے بڑھنے کےلیے حوصلہ دیتے رہے۔

ملالہ یوسف زئی نے بولی وڈ اداکارہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود کو معروف شخصیت نہیں سمجھتیں اور نہ ہی وہ لوگوں سے اس طرح رویہ رکھتی ہیں جیسے معروف شخصیات رکھتی ہیں۔

پاکستانی سماجی رہنما کے مطابق جو کوئی بھی ان کی تعریف کرتا ہے تو انہیں اچھا لگتا ہے اور جب کوئی بھی ان کے ساتھ تصویر بنوانا چاہتا ہے تو انہیں خوشی ہوتی ہے۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ کم عمری میں بڑے معاملات کا سامنا کرنے، عالمی رہنماؤں کے ساتھ ملنے اور پلیٹ فارمز پر خطاب کرنے جیسے معاملات پر ابتدائی طور پر وہ خوف زدہ ہوتی تھیں، تاہم انہوں نے گزرتے وقت کے ساتھ معاملات پر قابو پایا اور بہت ساری چیزیں خود ہی سیکھیں۔

ملالہ یوسف زئی کے مطابق انہیں سکھانے والا کوئی بھی شخص نہیں تھا اور انہوں نے خود ہی اپنی ذات، وقت اور حالات سے بہت کچھ سیکھا۔

انہوں نے خواتین کی خودمختاری پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی لڑکی کو تعلیم سے دور رکھنے، ان کی کم عمری میں شادی کرنے، انہیں گھریلو تشدد کا نشانہ بنانے اور کم عمری میں ان کے جنسی استحصال کا مطلب ان سے زندگی چھیننا ہے۔

انہوں نے خواتین کی خودمختاری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کام کے لیے مرد حضرات کو کردار ادا کرنا پڑے گا۔

ملالہ یوسف زئی کے مطابق خواتین کی خودمختاری، ان کے آگے بڑھنے اور آزادی میں مرد حضرات کا کردار کلیدی ہوتا ہے، کیوں کہ وہ بھی اپنے والد کی مدد سے ہی اس مقام پر پہنچی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ جب انہیں نوبیل انعام دینے کا اعلان کیا گیا وہ اس وقت اسکول کی کلاس میں تھیں اور استانی نے آکر انہیں خوشخبری بتائی۔

نوبیل یافتہ کارکن نے حکومت پاکستان کی جانب سے 2015 میں ستارہ شجاعت دیے جانے سمیت محض 11 سال کی عمر میں برطانوی نشریاتی ادارے کے لیے نوٹس لکھنے کے واقعے سمیت خود پر ہونے والے حملے پر بھی مختصر بات کی۔

خیال رہے کہ ملالہ یوسف زئی کو 2014 میں بھارت کے سماجی رہنما کیلاش سیتیارتھی کے ساتھ مشترکہ طور پر امن کا نوبیل انعام دیا گیا تھا، وہ دنیا کی عمر ترین نوبیل یافتہ بنی تھیں۔

نوبیل انعام کے ایک سال بعد حکومت پاکستان نے بھی ملالہ یوسف زئی کو بہادری کا ستارہ شجاعت ایوارڈ دیا تھا، حکومت پاکستان نے انہیں لندن ہائی کمیشن میں مذکورہ ایوارڈ دیا تھا۔

اس سے قبل بھی ملالہ یوسف زئی کو حکومت پاکستان نے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے دور میں قومی امن ایوارڈ برائے یوتھ سے بھی نوازا گیا تھا۔

ملالہ یوسف زئی پر نامعلوم افراد نے 9 اکتوبر 2012 کو سوات کے مرکزی شہر مینگورہ کے قریب حملہ کردیا تھا، ان کے ساتھ مزید دو طالبات بھی زخمی ہوئی تھیں اور بعد ازاں حملے میں طالبان کے ملوث ہونے کے شواہد ملے تھے۔

حملے میں شدید زخمی ہونے کی وجہ سے بعد ازاں ملالہ یوسف زئی کو علاج کے لیے برطانیہ منتقل کردیا گیا تھا اور پھر وہ وہیں پر ہی رہائش پذیر ہوگئیں اور انہیں برطانیہ میں رہائش کے دوران ہی نوبیل انعام اور ستارہ شجاعت سمیت دیگر کئی عالمی ایوارڈز سے نوازا گیا۔

ملالہ یوسف زئی نے برطانیہ میں رہائش کے دوران ہی معروف آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لیا تھا، جہاں سے انہوں نے رواں برس جون میں 22 سال کی عمر میں گریجوئیشن کی تعلیم مکمل کی تھی۔