متنازع فلم ریلیز کرنے پر حمزہ عباسی نے نیٹ فلیکس کی سبسکرپشن ختم کردی

معروف اداکارہ حمزہ علی عباسی نے اسٹریمنگ ویب سائٹ ’نیٹ فلیکس‘ کی جانب سے متنازع بولڈ فلم ’کیوٹیز‘ ریلیز کرنے پر ویب سائٹ سائٹ کی سبسکرپشن ختم کردی۔

حمزہ علی عباسی نے گزشتہ ماہ 31 اگست کو اپنی ایک ٹوئٹ میں ’نیٹ فلیکس‘ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ’کیوٹیز‘ کی ریلیز منسوخ کرے۔

حمزہ علی عباسی کی طرح دنیا بھر سے کئی شوبز شخصیات اور عام افراد نے بھی ’نیٹ فلیکس‘ سے مذکورہ بولڈ و متنازع فلم کی ریلیز کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

علاوہ ازیں ’نیٹ فلیکس‘ کے خلاف آن لائن پٹیشن بھی جاری کی گئی تھی، جس پر دنیا بھر سے لاکھوں افراد نے دستخط کرکے اسٹریمنگ ویب سائٹ سے فلم ریلیز نہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

لوگوں کی طرح ترکی کی حکومت نے بھی ’نیٹ فلیکس‘ کو متنازع بولڈ فلم ’کیوٹیز‘ کو ریلیز نہ کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم اس باوجود اسٹریمنگ ویب سائٹ نے فلم کو ریلیز کردیا۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ’کیوٹیز‘ کو دنیا کے کتنے ممالک میں ریلیز کیا گیا ہے، تاہم اسٹریمنگ ویب سائٹ نے امریکا، یورپ، ایشیا و افریقہ کے متعدد ممالک میں فلم کو ریلیز کردیا۔

لوگوں کے احتجاج کے باوجود فلم کو ریلیز کیے جانے پر حمزہ علی عباسی نے نیٹ فلیکس کی سبسکرپشن ختم کرتےہوئے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ بھی اسٹریمنگ ویب سائٹ کا بائیکاٹ کریں۔

حمزہ علی عباسی نے اپنی ٹوئٹ میں ’نیٹ فلیکس‘ کی سبسکرپشن ختم کرنے کا نوٹی فکیشن شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ان کے پاس اسٹریمنگ ویب سائٹ کی سبسکرپشن ختم کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔

انہوں نے اسٹریمنگ ویب سائٹ کی جانب سے متنازع فلم کو ریلیز کیے جانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ اب مین اسٹریم میڈیا سافٹ پورن کا مرکز بن چکی ہے۔

انہوں نے مداحوں سے بھی اپیل کی کہ وہ بھی ’نیٹ فلیکس‘ کی سبسکرپشن ختم کریں۔

’نیٹ فلیکس‘ کی سبسکرپشن پیسوں کے عوض ہوتی ہے اور سبسکرائبر ویب سائٹ کو ماہانہ ایک ہزار روپے سے 5 ہزار روپے تک فیس ادا کرتا ہے۔

’نیٹ فلیکس‘ ویڈیو ویب سائٹ ’یوٹیوب‘ کی طرح مفت ویڈیو دیکھنے کی سہولت فراہم نہیں کرتی۔

’نیٹ فلیکس‘ کو جس متنازع بولڈ فلم ’کیوٹیز‘ پر تنقید کا سامنا ہے، اسے رواں ماہ 9 ستمبر کو ریلیز کیا گیا تھا۔

فلم کی مرکزی کہانی ایک 11 سالہ مسلمان لڑکی کے گرد گھومتی ہے جو بے راہ روی اور قدرے بولڈ و آزاد زندگی کے مزے چکھنے کے بعد اپنے مذہبی خاندان سے بغاوت پر اتر آتی ہیں۔

فلم کی کہانی افریقی ملک سینیگال کے پناہ گزین خاندان اور اس گھر کی جوان ہوتی 11 سالہ بچی کے بلوغت کو پہنچنے والے رجحانات کے گرد گھومتی ہے۔

فلم میں مسلمان خاندان کو دکھایا گیا ہے، جس میں 11 سالہ بچی کے والد دوسری شادی بھی کرتے ہیں جب کہ ان کے گھر میں مسائل بھی رہتے ہیں۔

فلم میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح 11 سالہ بچی اپنے آبائی مذہب اور انٹرنیٹ دور کے ٹرینڈز کے درمیان الجھ کر بے راہ روی کا شکار بن جاتی ہیں۔

فلم میں دکھایا گیا ہے کہ 11 سالہ مسلمان بچی کس طرح اپنی ہم عمر دیگر فرانسیسی بچیوں کے آزاد ماحول، تنگ لباس اور ان کی جانب سے بولڈ ڈانس کرنے سے متاثر ہوکر ان کے راستے پر چل پڑتی ہے اور پھر انتہائی کم عمری میں ہی وہ اپنی ہم عمر لڑکیوں کے ساتھ فحش حرکتیں کرنے لگتی ہے۔

فلم میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح 11 سالہ مسلمان بچی کی بولڈ اور فحش حرکتوں کو ان سے عمر میں بڑے لڑکے موبائل پر ریکارڈ کرکے سوشل میڈیا پر وائرل کردیتے ہیں۔