رشوت دے کر بیٹیوں کو کالج میں داخلہ دلوانے پر امریکی اداکارہ کو سزا

امریکا میں 2018 کے آخر اور2019 کے آغاز میں تہلکہ مچانے والے کالج ایڈمشن اسکینڈل میں امریکی عدالت نے معروف اداکارہ 56 سالہ لوری لافلن اور ان کے شوہر فیشن ڈیزائنر موسمو گیانولی کو رشوت دینے کے جرم میں سزا سنادی۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق دونوں معروف شخصیات کے خلاف امریکی ریاست میساچوٹس کے شہر بوسٹن کی ضلعی عدالت میں کورونا کے باعث ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت ہوئی۔

لوری لافلن اور ان کے شوہر موسمو گیانولی کے خلاف ایک ہی عدالت میں ترتیب وار سماعت ہوئی، عدالت نے پہلے شوہر کو 5 ماہ جیل کی سزا سنائی، جس کے چند گھنٹوں بعد عدالت نے اداکارہ کو بھی 2 ماہ تک جیل بھیج دیا۔

دونوں میاں بیوی نے پہلے ہی عدالت میں اپنے جرم کا اعتراف کیا تھا اور انہوں نے تاحال اپنے خلاف لگے الزامات پر کوئی وضاحت اور صفائی پیش نہیں کی۔

ان پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنی دو جوان بیٹیوں کو یونیورسٹی آف سدرن کیلی فورنیا کے کالج میں داخلہ دلوانے کے لیے 5 لاکھ امریکی ڈالر کی رشوت دی تھی۔

اداکارہ اور ان کے شوہر نے عدالت میں اعتراف جرم بھی کیا تھا—فوٹو: اے پی
دونوں نے عدالت میں کیس چلنے کے بعد ابتدائی طور پر الزامات کو مسترد کیا تھا، تاہم بعد ازاں دونوں نے جرائم کا اعتراف کیا تھا۔

ان پر گزشتہ برس ہی امریکی محکمہ انصاف نے فرد جرم عائد کرکے کیس کا آغاز کیا تھا۔

اسی حوالے سے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے بتایا کہ اگرچہ لوری لافلن اور ان کے شوہر وسمو گیانولی کو عدالت نے جیل بھیجنے کی سزا سنادی، تاہم مذکورہ عدالت نے دونوں ملزمان کی جانب سے امریکی محکمہ انصاف کے ساتھ طے پانے والی قانونی مقدمہ ختم کرنے کی درخواست بھی منظور کی۔

مقدمہ ختم کرنے کی درخواست کے تحت دونوں کو جرمانہ اور کچھ گھنٹوں کی کمیونٹی سروس کی خدمات ادا کرنی پڑیں گی، جس کے بعد ان کی جیل جانے کی سزا ختم ہوگی۔

لوری لافلن ایک درجن فلموں اور 3 درجن ڈراموں میں اداکاری کر چکی ہیں—فوٹو: اے پی
دونوں شخصیات اور محکمہ انصاف کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے مطابق لوری لافلن کو ڈیڑھ لاکھ ڈالر اور کم از کم 100 گھنٹے تک کمیونٹی سروس کرنی پڑے گی۔

اسی طرح ان کے شوہر موسمو گیانولی کو بھی ڈھائی لاکھ ڈالر اور 250 گھنٹے تک کمیونٹی سروس کرنی پڑے گی۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اسی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ دونوں اداکاروں کو عدالتی احکامات پر عمل کرتے ہوئے رواں برس 19 نومبر کی دوپہر 2 بجے تک خود کو پولیس حکام کے حوالے کرنا پڑے گا۔

عدالتی حکم نامے کے تحت دونوں چاہیں تو نومبر سے پہلے بھی خود کو پولیس حکام کے حوالے کر سکتے ہیں، تاہم ان کی آخری مدت 19 نومبر ہی ہے۔

اداکارہ لوری لافلن اور ان کے شوہر موسمو گیانولی سے قبل بھی مذکورہ کیس میں امریکی عدالت متعدد اہم شخصیات کو سزا سنا چکی ہے۔

مذکورہ کالج ایڈمشن اسکینڈل 2018 کے آخر میں سامنے آیا تھا اور مارچ 2019 میں امریکی محکمہ انصاف نے اسکینڈل میں ملوث 50 اہم شخصیات پر رشوت کے عوض اپنے بچوں کو کالج میں داخلہ دلوانے کا فرد جرم عائد کیا تھا۔

اسی کیس میں گزشتہ برس ستمبر میں امریکی عدالت نے اداکارہ فیلیسٹی ہفمین کو بھی 14 دن جیل کی سزا سنائی تھی۔

علاوہ ازیں اسی کیس میں اسپورٹس، فیشن، میڈیا، ٹیکنالوجی اور کاروبار سے منسلک اہم ترین، بااثر ترین اور امیر ترین شخصیات کو بھی عدالتوں کی جانب سے قانونی کارروائی کا سامنا ہے۔