معروف انقلابی شاعرحبیب جالب کوہم سے بچھڑے 28 سال گزرگئے

لاہور: معروف انقلابی شاعرحبیب جالب کوہم سے بچھڑے 28 سال گزرگئے لیکن آج بھی ان کی نظمیں اوراشعارزبان زد عام ہیں،

حبیب جالب حق و انصاف کی ایک توانا اور ناقابل تسخیر آواز تھی۔ حبیب جالب ہمارے شعری افق پراس وقت نمودار ہوئے تھے، جب آل انڈیا مسلم لیگ تحریک پاکستان میں سرگرم عمل تھی۔ اس تحریک کے زیراثرحبیب جالب ایک رومانی شاعرسے انقلابی شاعر کی منزل کی جانب گامزن ہوگئے۔

حبیب جالب بطورپروف ریڈرکراچی سے شائع ہونے والے ایک اخبار میں بھی ملازم رہے۔ جالب عوامی شاعر تھے، انہوں نے جلاوطنی جھیلی، کئی مرتبہ جیل میں سزا بھی کاٹنی پڑی تاہم جالب نے شاعری نہیں چھوڑی۔حبیب جالب کی نظم کوفلم زرقا میں شامل کیا گیا، پہلا مجموعہ کلام برگ آوارہ کے نام سے 1957ء میں شائع کیا، ذکر بہتے خوں کا،کلیات حبیب جالب، اس شہرخرابی میں، گوشے میں قفس کے، حرفِ حق مشہور تخلیقات ہیں۔

وفات کے کئی برس بعد حبیب جالب کی خدمات کا اعتراف کرتے انہیں نشان امتیاز سے نوازا گیا۔ جالب 12 مارچ 1993ء کو وفات پاگئے تھے۔