ٹرانسپلانٹ کے بعد عالمگیر ہسپتال سے ڈسچارج، صحت میں بہتری

لیجنڈ پاپ گلوکار 65 سالہ عالمگیر کی طبیعت میں مسلسل بہتری کے بعد انہیں ہسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا۔’دیکھا نہ تھا کبھی ایسا سماں، کو کو کورینا، تم ہی سے ہی اے نوجوانو‘ اور ’میں نے تمہاری گاگھر سے پانی پیا تھا‘ سمیت درجنوں مقبول گیت گانے والے عالمگیر کا رواں ماہ 13 نومبر کو گردے کا ٹرانسپلانٹ کیا گیا تھا۔ان کا ٹرانسپلانٹ امریکی ریاست جارجیا کے شہر ایٹلانٹا کے ہسپتال میں کیا گیا تھا، جہاں وہ اہل خانہ سمیت مقیم ہیں۔

ٹرانسپلانٹ کے ایک ہفتے بعد انہوں نے 20 نومبر کو اپنے ویڈیو پیغام میں بتایا کہ انہیں ہسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا اور اب ان کی طبیعت مسلسل بہتر ہو رہی ہے۔ویڈیو میں وہ کافی کمزور دکھائی دیے، تاہم انہوں نے جذباتی انداز میں اپنے مداحوں کو بتایا کہ کس طرح انہوں نے ایک ٹرانسپلانٹ کی خاطر 13 برس انتظار کیا۔

عالمگیر نے بتایا کہ ان کے دونوں گردے خراب ہوچکے تھے اور وہ گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے ڈائلاسز پر تھے، تاہم 5 سال قبل ایک موقع پر ان کا آپریشن کرنی کی تیاری بھی کرلی گئی تھی مگر ان کے گردوں کی حالت انتہائی خراب ہونے کے بعد اس وقت ان کا آپریشن نہیں کیا گیا۔پاپ گلوکار نے بتایا کہ 5 سال قبل ان کے دونوں گردے نکال دیے گئے تھے اور اب 5 سال بعد ان کا ٹرانسپلانٹ کردیا گیا اور مجموعی طور پر انہیں ٹرانسپلانٹ کے لیے 13 سال انتظار کرنا پڑا۔

گلوکار کے مطابق جب ان کے گردے نکال دیے گئے تھے تب وہ ڈائلاسز کے سہارے چل رہے تھے اور گردے نہ ہونے کی وجہ سے وہ بہت ساری چیزیں کھا اور پی نہیں سکتے تھے۔انہوں نے بتایا کہ تاہم اب وہ جلد ہی ہر طرح کی غذائیں کھانا شروع کردیں گے۔انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹرز نے انہیں ایک ماہ تک گھر تک محدود رہنے کا مشورہ دیا ہے اور بتایا ہے کہ وہ لوگوں سے زیادہ نہ ملیں، کیوں کہ ان کا مدافعتی نظام ابھی کافی کمزور ہے اور وہ جلد ہی بیمار ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے مداحوں کو بتایا کہ وہ کورونا کی وجہ سے کافی احتیاط کر رہے ہیں، تاہم جلد ہی وہ عام زندگی کی جانب لوٹ کر پھر سے مداحوں کے درمیان آئیں گے اور انہیں گیت سنائیں گے۔عالمگیر 2004 سے گردوں کےمرض میں مبتلا تھے—
خیال رہے کہ عالمگیر میں 2004 میں گردوں کی بیماری کی تشخیص ہوئی تھی اور ان کے گردے تقریبا ناکارہ بن چکے تھے اور وہ کئی سال سے ڈائلاسز کے سہارے چل رہے تھے۔عالمگیر کی پیدائش سابق مشرقی پاکستان اور حالیہ بنگلادیش میں ایک سیاسی گھرانے میں ہوئی تھی اور وہ محض 15 برس کی عمر میں مغربی پاکستان منتقل ہوئے تھے۔

عالمگیر نے پاکستان کے صوبہ سندھ میں رہائش اختیار کی اور دارالحکومت کراچی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے سمیت یہیں سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ عالمگیر کو 1970 سے 1980 کے معروف پاپ گلوکاروں میں شمار کیا جاتا ہے اور ان کی آواز کا جادو 1990 تک نوجوانوں کو محظوظ کرتا رہا۔ عالمگیر کے بعد پاپ موسیقی میں قدم رکھنے والے کئی گلوکاروں نے ان کے انداز و اسٹائل کو بھی کاپی کرکے شہرت حاصل کی۔عالمگیر 2007 میں پاکستان میں ہونے والی ایک تقریب میں پرفارمنس کرتے ہوئے—فوٹو: عالمگیر فیس بک