بلال مقصود کے بعد محسن عباس بھی یوٹیوب پر مذہبی مواد مونیٹائز نہ کرنے کے خواہاں

میوزک بینڈ اسٹرنگز کے رکن اور نامور کمپوزر و گلوکار بلال مقصود نے رواں برس اگست میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یوٹیوب پر مذہبی مواد کو مونیٹائز نہیں ہونا چاہیے۔بلال مقصود نے یوٹیوب پر مذہبی مواد سے متعلق تشویش کا اظہار کیا تھا اور منافع بخش تنظیموں کی جانب سے مارکیٹنگ کے مقاصد سے اس میں مداخلت کو پریشان کن قرار دیا تھا۔انہوں نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ یوٹیوب پر سورتوں اور دعاؤں کو مونیٹائز نہیں ہونا چاہیے۔

بلال مقصود نے لکھا تھا کہ تصور کریں آپ یوٹیوب پر سورۃ رحمٰن کی تلاوت سن رہے ہیں اور درمیان میں کسی لان یا کوکنگ آئل کا اشتہار آجائے، یہ انتہائی بے ادبی ہے۔گلوکار کی پوسٹ پر اکثر مداحوں نے بھی ان خیالات سے اتفاق کیا تھا اور کہا تھا کہ انہیں بھی ایسی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔تاہم کچھ لوگوں نے بلال مقصود کی پوسٹ پر تنقید بھی کی تھی اور کہا کہ یہ اشتہارات ان افراد کو مالی فائدہ پہنچانے کے لیے ہیں جنہوں نے دنیا تک کچھ اچھا پہنچانے کی کوشش کی ہے۔

تاہم اب اداکار محسن عباس نے یوٹیوب پر مذہبی مواد کو مونیٹائز نہ کرنے سے متعلق بلال مقصود کی رائے سے اتفاق کیا ہے۔انہوں نے انسٹاگرام اسٹوری میں ایک اسکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ میں نے یہ یوٹیوب پر چاروں قُل چلائے اور یہ ایڈ آیا۔محسن عباس حیدر نے کہا کہ میں بلال مقصود سے اتفاق کرتا ہوں کہ اور یوٹیوب پر قرآنی آیات /سورتوں کو مونیٹائز کرنا بند کیا جائے۔