ارطغرل جیسے ڈرامے نہ بننے میں اگر انڈسٹری قصوروار ہے تو عوام بھی ہیں

پاکستان کے معروف اداکار منیب بٹ نے کہا کہ ارطغرل دیکھنے کے بعد آج کل ہر شخص ہماری انڈسٹری کے خلاف ہوگیا ہے کہ ہم ایسے ڈرامے کیوں نہیں بناتے جبکہ ایسے ڈرامے نہ بننے میں اگر انڈسٹری قصوروار ہے تو عوام بھی ہیں۔

ترکی کے ڈرامے ’دیریلیش ارطغرل‘ کو پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) پر اردو ترجمہ کرکے ’ارطغرل غازی’ کے نام سے نشر کیا جارہا ہے۔
اس ڈرامے نے پاکستانی عوام میں مقبولیت کے نئے ریکارڈز بنائے اور شوبز شخصیات نے بھی اس ڈرامے کو پسند کیا لیکن کچھ نے پی ٹی وی پر نشر کرنے کی مخالفت کی۔

لیکن اس کے ساتھ ہی پاکستانی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کو تنقید کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کہ پاکستانی ڈراما صرف چند موضوعات تک محدود ہوکر رہ گیا ہے اور یہاں تاریخی اور اسلامی فتوحات پر مبنی ڈرامے نہیں بنائے جاتے۔

اداکار منیب بٹ نے یوٹیوب پر ڈائریکٹر رافع راشدی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پاکستانی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کو درپیش چیلنجز پر بات کی۔ منیب بٹ نے کہا کہ ہم انڈسٹری کے حوالے سے بہت سی باتیں کرنا چاہتے ہیں لیکن ہمارے پاس کوئی ایسا پلیٹ فارم نہیں ہوتا جہاں جا کر ہم لوگوں کی وہ شکایات دور کریں جو انہیں ہم سے ہیں اور ہم ان کی شکایات کا ازالہ کرکے انہیں سمجھا سکیں۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے منیب بٹ نے کہا کہ ارطغرل دیکھنے کے بعد آج کل ہر شخص ہماری انڈسٹری کے خلاف ہوگیا ہے کہ ہم ایسے ڈرامے کیوں نہیں بناتے۔ منیب بٹ کا کہنا تھا کہ میری ذاتی رائے ہے کہ ارطغرل جیسے ڈرامے بہت کم بنتے ہیں، میں خود اس ڈرامے کا بہت بڑا مداح ہوں اور میرے گھر میں بھی یہ ڈراما دیکھتے ہیں۔ اداکار نے کہا کہ میرے گھر والوں نے میرا کوئی ڈرامہ اس طرح نہیں دیکھا ہوگا جس طرح وہ ارطغرل دیکھتے ہیں۔

پاکستان میں ترک ڈرامہ سیریل ’ارطغرل‘ کے نشر ہوتے ہی مقبولیت کی بلندیوں کو پہنچ گیا جس کے بعد عوام ملک میں بھی تاریخی واسلامی واقعات پر مبنی ڈرامے بنائے جانے کے حق میں بولتے دکھائی دیے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ارطغرل’ ڈرامے کے بعد اب جیسے ایک معیار طے ہوگیا ہے، جیسے کچھ عرصہ پہلے ’میرے پاس تم ہو’ ڈراما آیا اور اس کا ایک لیول سیٹ ہوگیا تھا کہ ہر شخص نے وہ ڈراما دیکھا ہوا تھا اور اب ارطغرل کے آنے کے بعد بھی ایسا ہی ہورہا ہے۔

منیب بٹ نے مزید کہا کہ اب مسئلہ یہ ہے کہ ہماری پوری انڈسٹری پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں کہ ایسے ڈرامے کیوں نہیں بناتے؟ تاریخ پر مبنی پروجیکٹس کیوں نہیں کیے جاتے؟

انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ لوگوں یہ بات سمجھانا اور اس کا جواب دینا بہت ضروری ہے کیونکہ ایک منٹ کی ویڈیو میں یہ بات نہیں بتائی جاسکتی، میں لوگوں کو بتارہا ہوں سوشل میڈیا پر پاکستانی انڈسٹری کے خلاف جو تنقید ہورہی ہے اس میں اگر انڈسٹری قصوروار ہے عوام بھی برابر کے شریک ہیں کیونکہ عوام نہیں دیکھتے۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے منیب بٹ کا کہنا تھا کہ عوام جو دیکھیں گے چینل مالکان اسی چیز کو دکھائیں گے، عوام جو خریدنا چاہیں گے چینل مالکان وہی بیچیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس کی حالیہ مثال ’الف’ ڈراما ہے، جو ایک بہت حیرت انگیز ڈراما تھا، میں نے جب اس ڈرامے کے شروع کی اقساط دیکھیں تو کہا کہ کیا ماسٹر پیس بنایا ہے لیکن ریٹنگ چارٹس پر’ میرے پاس تم ہو مسلسل ’الف ’ ڈرامے کو پیچھے چھوڑ رہا تھا۔ منیب بٹ نے کہا کہ میرے پاس تم ہو بھی ایک بہت زبردست کہانی تھی لیکن وہ ایک ایسا مسئلہ تھا جسے ہم بیوی کا شوہر کو دھوکا دینا کہیں گے یہ ایک مختلف چیز تھی لیکن لوگوں نے اسے پسند کیا۔

اداکار نے کہا کہ میں لوگوں کو یہی بتانا چاہتا ہوں کہ جو آپ دیکھیں گے، پسند کریں گے، جس پر ریٹنگز آئیں گی، چینل مالکان وہی بنوائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 2020 کا واحد بجٹ ہے جس میں میڈیا اور اس سے وابستہ افراد کے لیے ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، اب وہ ملیں نہ ملیں وہ بعد کی بات ہے، پہلی دفعہ کوئی وزیراعظم کسی لکھاری سے ملا ہے۔