طبیعات کا نوبیل انعام خاتون سمیت تین سائنسدانوں کے نام

دنیا کا سب سے معتبر ایوارڈ دینے والی سویڈن کی سویڈش اکیڈمی آف نوبیل پرائز نے ’فزکس‘ (طبیعات) کا 2020 کا ایوارڈ امریکا، برطانیہ اور جرمنی کے تین سائنسدانوں کے نام کردیا۔

نوبیل پرائز کمیٹی کی جانب سے کے مطابق رواں سال کا طبیعات کا نصف نوبیل پرائز برطانوی رٰیاضیدار راجر پینریز کو دیا جائے گا جب کہ ایوارڈ کا نصف حصہ امریکی خاتون سائسندان اینڈریا گیز اور جرمن سائنسدان رینہارڈ گینزل کو دیا جائے گا۔

کمیٹی کے مطابق فزکس کے نوبیل انعام کا نصف حصہ برطانوی سائنسدان راجر پینریز کو ان کی بلیک ہول سے متعلق ابتدائی و جامع تحقیق کرنے کی خدمات پر دیا جا رہا ہے۔

جب کہ خاتون سائنسدان اینڈریا گیز اور رینہارڈ گینزل کو ہمارے کہکہشاں کے مرکز میں بہت بڑی مستند چیز کی کھوج لگانے پر فزکس کا نصف نوبیل انعام دیا جا رہا ہے‎

نوبیل پرائز کمیٹی نے تینوں سائنسدانوں کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کی تحقیقات کو طبیعات کی جدید تحقیقات کا بنیاد قرار دیا اور کہا کہ ان کی ابتدائی تحقیقات سے ہی دنیا دیگر رازوں سے باخبر ہوئی۔

نوبیل کمیٹی کے مطابق برطانوی سائنسدان راجر پینریز نے البرٹ آئن اسٹائن کی موت کے محض 10 سال بعد 1965 میں بلیک ہول سے متعلق تحقیقات کرکے سب کو حیران کردیا۔

کمیٹی نے بتایا کہ اینڈریا گیز اور رینہارڈ گینزل نے 1990 میں ہمارے کہکہشاں کے مرکز میں بہت بڑی مستند چیز کی کھوج لگا کر خلانوردوں اور خلائی ماہرین کے لیے تحقیق کی نئی سمت متعین کی۔

سال 2020 کی طرح گزشتہ سال بھی طبیعات کا نوبیل انعام تین مختلف سائنسدانوں کو دیا گیا تھا۔

گزشتہ برس فزکس کا نوبیل انعام امریکی نژاد کینیڈین سائنسدان جیمز پیبلز و سوئٹزرلینڈ کے سائنسدانوں مائیکل میئر اور دیبر کوئلوز کو دیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ نوبیل کمیٹی ہر سال اکتوبر کے آغاز میں ہی نوبیل پرائز کا اعلان کرتی ہے، اس سال 5 اکتوبر سے کمیٹی نے رواں سال کے فاتحین کا اعلان کرنا شروع کیا تھا۔

نوبیل کمیٹی نے 5 اکتوبر کو طب کے نوبیل انعام جیتنے والے سائنسدانوں کا اعلان کیا تھا۔

نوبیل پرائز کمیٹی طب سمیت مجموعی طور پر 6 کیٹیگریز میں انعامات دیتی ہے، یہ کمیٹی طب کے علاوہ کیمسٹری، فزکس، ادب، معیشت اور امن کی کیٹیگری میں بھی انعام دیتی ہے۔ کمیٹی نوبیل انعام جیتنے والوں کو ہر سال دسمبر میں انعامات دیتی ہے اور انعامات دینے کی تقریب سویڈن میں ہی منعقد ہوتی ہے، تاہم امن کے نوبیل انعام دینے کی تقریب دوسرے ملک میں ہوتی ہے۔