فیس بک کا امریکی صدارتی انتخابات کے دوران سیاسی اشتہارات شائع نہ کرنے کا اعلان

دنیا کی سب سے بڑی سوشل ویب سائٹ فیس بک نے آئندہ ماہ اکتوبر میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات کے دوران سماجی مسائل پر مبنی، سیاسی اور انتخابات کی جیت سے متعلق دعووں کے اشتہارات شائع نہ کرنے کا اعلان کردیا۔

ٹیکنالوجی ویب سائٹ دی ورج کے مطابق فیس بک نے امریکی انتخابات کے دوران اشتہارات شائع نہ کرنے کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تنقید کے بعد کیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک روز قبل پہلے صدارتی مباحثے کے دوران فیس بک پر اشتہارات کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ ویب سائٹ پر اشتہارات سے انتخابات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی تنقید کے بعد فیس بک انتظامیہ نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ صدارتی انتخابات سے ایک ہفتہ قبل ہی تمام طرح کے سیاسی، و سماجی اشتہارات کی بکنگ بند کردی جائے گی‎

فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے اگرچہ گزشتہ ماہ ستمبر کے آغاز میں ہی اعلان کیا تھا کہ ان کی ویب

مارک زکربرگ نے اپنی طویل پوسٹ میں بتایا تھا کہ ان کی ویب سائٹ 27 اکتوبر کی شب سے 3 نومبر 2020 کی شب تک کسی بھی قسم کے سیاسی، سماجی اور انتخابات پر اثر انداز ہونے والے اشتہارات نہیں لے گی۔

مارک زکربرگ نے کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ کو انتخابات پر اثر انداز ہونے والے اشتہارات پر فکر لاحق ہے۔

فیس بک پر ماضی میں امریکی انتخابات پر اثر انداز ہونے والے اشتہارات شائع کرنے کا الزام لگایا جاتا رہا ہے اور 2016 میں ہونے والے انتخابات کے دوران اس پر الزام لگا تھا کہ فیس بک نے ایسے اشتہارات شائع کیے جن سے ڈونلڈ ٹرمپ کو جیتنے میں مدد ملی۔

فیس بک پر 2016 کے بعد الزامات لگائے گئے کہ اس نے لوگوں کو دھوکا دینے والے ایسے اشتہارات شائع کیے جنہیں دیکھنے والے افراد نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ دیا۔

اگرچہ ابتدائی طور پر فیس بک ایسے الزامات کی تردید کرتا رہا، تاہم بعد ازاں فیس بک انتظامیہ نے تسلیم کیا تھا کہ 2016 کے امریکی انتخابات کے دوران اسے روس کے کچھ اداروں سے اشتہارات ملے تھے، جنہوں نے ممکنہ طور پر امریکی صدارتی انتخابات پر اثر ڈالا۔

ایسے الزامات کے بعد اس بار فیس بک نے امریکی صدارتی انتخابات سے ایک ہفتہ قبل ہی فیس بک اور انسٹاگرام سمیت اپنی دیگر ویب سائٹس پر ایسے اشتہارات شائع نہ کرنے کا اعلان کیا ہے جو کسی بھی طرح انتخابات پر اثر انداز ہوسکیں گے۔