کیا ہماری کہکشاں میں کھربوں ’’یتیم سیارے‘‘ ہیں؟

ایک تازہ تحقیق میں ماہرینِ فلکیات نے اندازہ لگایا ہے کہ ہماری کہکشاں میں ’یتیم سیاروں‘ کی تعداد ستاروں سے بھی زیادہ، یعنی کئی کھرب ہوسکتی ہے۔ ’یتیم‘ یا ’بدمعاش‘ سیارے وہ ہوتے ہیں جو کسی ستارے کے گرد چکر نہیں لگا رہے ہوتے بلکہ خلاء میں آزادانہ آوارہ گردی کررہے ہوتے ہیں۔

اب تک کے محتاط ترین اندازوں کے مطابق، ہماری ملکی وے کہکشاں میں ستاروں کی تعداد 100 ارب (ایک کھرب) سے لے کر 400 ارب (چار کھرب) تک ہوسکتی ہے۔ (جی ہاں! یہ سچ ہے کہ ہم ابھی تک خود اپنی ہی کہکشاں کے بارے میں پورے وثوق سے یہ بات نہیں جانتے۔)

’’ایسٹرونومیکل جرنل‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق، اوہایو اسٹیٹ یونیورسٹی کے ماہرین نے تخمینہ لگایا ہے کہ ہماری اپنی ’’ملکی وے‘‘ کہکشاں میں یتیم سیاروں کی تعداد 400 ارب سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔
یہ ’یتیم سیارے‘ کیسے بنتے ہیں؟ اس بارے میں ہمارے پاس کچھ مفروضات ضرور ہیں لیکن کوئی ثابت شدہ سائنسی نظریہ موجود نہیں۔

امریکی خلائی تحقیقی ادارے ’’ناسا‘‘ کی ’’نینسی گریس رومن خلائی دوربین‘‘ جو 2025 تک خلاء میں بھیجنے کا منصوبہ ہے، دوسرے ستاروں کے گرد سیارے ڈھونڈنے کے علاوہ یتیم سیاروں کی تلاش بھی کرے گی۔ اس مقصد کےلیے یہ اپنے حساس آلات استعمال کرتے ہوئے ’’مائیکرولینسنگ‘‘ نامی قدرتی مظہر سے استفادہ کرے گی۔

ماہرین کو امید ہے کہ یہ دوربین سیکڑوں کی تعداد میں یتیم سیارے دریافت کرلے گی، جس کے بعد یتیم سیاروں کی تخلیق کے بارے میں مفروضات کی تصدیق یا تردید کی جاسکے گی۔

یتیم سیاروں کے بارے میں ایک مفروضہ تو یہ ہے کہ آج سے کروڑوں اربوں سال پہلے یہ بھی ستاروں کے گرد باقاعدہ گردش کررہے تھے لیکن پھر، شاید اپنے ستاروں کے ختم ہوجانے یا ان کی قوتِ ثقل (گریویٹی) بہت کمزور پڑجانے کی وجہ سے، یہ اپنے مداروں سے آزاد ہو کر خلا میں اِدھر سے اُدھر آوارہ گردی کرنے لگے۔

قدرے بڑی جسامت اور زیادہ کمیت والے یتیم سیاروں کے بارے میں خیال ہے کہ شاید کسی نظامِ شمسی کے بالکل ابتدائی زمانے میں اپنے ستارے کی کشش سے آزاد ہوگئے ہوں گے اور انہوں نے اپنی تخلیق و تشکیل کے باقی مراحل ایک یتیم سیارے کی حیثیت ہی سے مکمل کیے ہوں گے۔

یہ اور ان جیسی دوسری باتیں فی الحال مفروضوں ہی کی شکل میں ہیں جنہیں قابلِ بھروسہ مشاہدات کی بنیاد پر تصدیق یا تردید کی لازمی ضرورت ہے۔ ناسا کی نینسی گریس رومن خلائی دوربین کی تیاری میں اس ضرورت کو بھی بطورِ خاص مدِنظر رکھا گیا ہے۔

بتاتے چلیں کہ 1998 سے لے کر اب تک 20 یتیم سیارے ہی دریافت ہوئے ہیں جبکہ ان میں سے بھی صرف دو سیارے ایسے ہیں جنہیں مصدقہ طور پر یتیم سیارے تسلیم کیا گیا ہے؛ باقی 18 کا شمار ’’امیدوار یتیم سیاروں‘‘ میں کیا جاتا ہے جن کے بارے میں فی الحال حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔