نابینا افراد کے لیے سرکاری یونی ورسٹی کے طلبہ کی اہم ایجاد

کراچی: بے نظیر بھٹو شہید یونی ورسٹی لیاری، انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ کے طلبہ نے نابینا افراد کے لیے جدید ترین موبائل ایپلی کیشن چھڑی ایجاد کی ہے، جس سے انھیں راہ چلتے بڑی سہولت میسر آ سکتی ہے۔

اس سلسلے میں ایپلی کیشن بنانے والے طلبہ انھوں نے بتایا کہ انھوں نے نابینا افراد کے لیے چھڑی سے جڑی ایسی موبائل ایپلی کیشن بنائی ہے جو آواز کے ذریعے انھیں راستے میں آنے والی رکاوٹوں سے متعلق آگاہ کرتی ہے۔

دل چسپ امر یہ ہے کہ اس موبائل ایپلی کیشن میں مختلف زبانوں کا آپشن موجود ہے، جو نابینا افراد کو عوامی مقامات میں چلنے پھرنے میں مدد دے گی۔ یہ ایجاد بے نظیر شہید یونی ورسٹی کے 3 طلبہ شہزاد اول، شہزاد دوم، اور محمد حمزہ علی نے مل کر کی ہے۔

شہزاد اول نے بتایا کہ یہ ایک اسمارٹ سسٹم ہے، جس میں ہم نے آئی او ٹی (انٹرنیٹ آف تھنگز) اور ایپ کے ذریعے کنیکٹنگ کرائی ہے، اس میں ہم مائیکرو کنٹرولر کو آٹومیٹ کرتے ہیں، اسے کسی چیز پر لگا کر انٹرنیٹ سے جوڑا جاتا ہے، اس میں ہم نے الٹرا سانک سنسر لگائے ہیں جو فاصلے کو ناپ کر بتاتے ہیں کہ آگے کوئی رکاوٹ ہے یا نہیں، اگر کوئی رکاوٹ ہوتی ہے تو آواز کی لہر واپس آتی ہے اور بتاتی ہے کہ کتنے فاصلے پر کوئی چیز ہے۔

اس ڈیوائس میں مختلف قسم کے سنسر لگے ہوئے ہیں، جیسا کہ ایک سنسر گڑھے کو تلاش کرنے کا کام کرتا ہے، جب یہ سامنے کوئی گڑھا پاتا ہے تو یہ سنسر ایپ کو اس کا فاصلہ بھیجتا ہے، اور اسی حساب سے ایپ آواز کے ذریعے نابینا افراد کو اس کے بارے میں مطلع کر دیتا ہے، یہ ایپ اردو میں بتاتا ہے کہ آگے گڑھا ہے، ایپ میں موجود خاتون کی یہ آواز ہمارے کلاس میٹ کی ہے جسے ریکارڈ کیا گیا ہے۔

شہزاد دوم نے بتایا کہ انھوں نے اس پروجیکٹ میں آئی او ٹی پر ہارڈ ویئر کو ڈویلپ کیا ہے، مائیکرو کنٹرولر سنسر، لوکیشن شیئرنگ، یہ سب میں نے ڈیولپ کی ہیں۔

حمزہ علی کا کہنا تھا کہ اس سارے ڈیوائس کا انفرا اسٹرکچر انھوں نے ڈیزائن کیا کہ اس نے کیسے کام کرنا ہے، حمزہ نے بتایا کہ پروجیکٹ کا آئیڈیا بھی میرا تھا۔

اس چھڑی پر مدربورڈ، مائیکرو کنٹرولر، جی ایس ایم اور سنسر لگا ہوا ہے، طلبہ نے بتایا کہ اسٹک پر مائیکرو کنٹرولر لگایا گیا ہے، لیکن کرونا وبا کی وجہ سے جی ایس ایم دستیاب نہیں تھا تو ہم نے ایپلی کیشن موبائل کے ذریعے اسے کال کروائی تو وی شیئر ہوئی۔

انھوں نے کہا ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس کو صنعتی سطح پر تیار کریں، ہم نے اس کے لیے لیزر سنسر بھی منگوائے ہیں کیوں کہ جو ماڈل ہم نے تیار کیا ہے اس میں پرانے ماڈل کے سنسر لگے ہیں، لیزر سنسر مکمل طور پر درست فاصلہ ناپتا ہے۔

طلبہ کا کہنا تھا اس پروڈکٹ کی تیاری پر تقریباً 3 ہزار روپے کا خرچہ آیا، زیادہ پیمانے پر اس کی تیاری پر لاگت مزید کم ہو جائے گی، اگر حکومت اس پروجیکٹ کو اون کرے تو بڑے پیمانے پر اس کی پروڈکشن ہو سکتی ہے۔