مویشیوں کو ’ماحول دوست‘ بنانا ہے تو انہیں سمندری گھاس کھلائیے، تحقیق

کیلیفورنیا: امریکی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ گائے بھینسوں کے چارے میں سمندری گھاس کی تھوڑی سی مقدار شامل کردی جائے تو ان سے میتھین گیس کے اخراج میں 82 فیصد تک کمی ہوجاتی ہے۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ڈیوس (یو سی ڈی) میں کی گئی اس تحقیق کے دوران 21 پالتو گایوں کے روزانہ چارے میں سرخ سمندری گھاس (Asparagopsis taxiformis) کی تھوڑی سی مقدار شامل کی گئی۔

بتاتے چلیں کہ سرخ سمندری گھاس کی یہی قسم پاکستانی ساحلی پٹی پر بھی بکثرت پائی جاتی ہے۔
اس کے بعد خصوصی آلات کے ذریعے دن میں چار مرتبہ ان کی ڈکاروں سے خارج ہونے والی میتھین گیس کی مقدار معلوم کی گئی۔

پانچ ماہ تک جاری رہنے والے ان تجربات سے معلوم ہوا کہ جن گایوں نے معمول کے چارے کے ساتھ روزانہ صرف 80 گرام سرخ سمندری گھاس کھائی تھی، ان کی ڈکاروں سے میتھین کا اخراج 82 فیصد تک کم ہوا تھا جبکہ ان سے حاصل ہونے والے دودھ اور گوشت کے ذائقے اور غذائیت پر بھی کوئی فرق نہیں پڑا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ سرخ سمندری گھاس کے اجزاء، مویشیوں کے معدے میں ان خامروں کو کام کرنے سے روکتے ہیں جو میتھین کے اخراج کی وجہ بنتے ہیں۔ قبل ازیں یہی تحقیق امریکی اور آسٹریلوی سائنسدانوں نے مشترکہ طور پر کی تھی، تاہم اس کا دورانیہ صرف 15 دن رہا تھا۔ موجودہ تحقیق میں یہ مدت بڑھا کر 5 ماہ کرتے ہوئے سرخ سمندری گھاس کے طویل مدتی اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

اگرچہ فضا میں میتھین کا اخراج کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مقابلے میں بہت کم ہوتا ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی نسبت 25 گنا زیادہ حرارت جذب کرتی ہے۔ یعنی فضا میں ایک ٹن میتھین سے ماحول کے درجہ حرارت میں ہونے والا اضافہ اتنا ہوتا ہے کہ جیسے 25 ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں شامل کردی گئی ہو۔

بعض تحقیقات میں 20 سالہ اثرات کی بنیاد پر یہاں تک کہا گیا ہے کہ میتھین گیس میں ماحول کو گرمانے کی صلاحیت، کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مقابلے میں 84 گنا زیادہ ہے۔ فضائی میتھین کے حالیہ اضافے میں انسانی سرگرمیوں کا کردار سب سے نمایاں ہے جس کا 37 فیصد حصہ پالتو مویشیوں، بالخصوص گائے بھینسوں کی ڈکاروں اور ریاح سے فضا میں شامل ہوتا ہے۔

یہ تجربات اگرچہ امید افزا ہیں لیکن سرخ سمندری گھاس کی بڑے پیمانے پر کاشت اور دور دراز مقامات تک محفوظ منتقلی جیسے امور پر اب بھی کام ہونا باقی ہے۔ اگلے مرحلے میں ان ہی نکات پر تحقیق کی جائے گی۔ اس تحقیق کی تفصیل آن لائن ریسرچ جرنل ’’پی ایل او ایس ون‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہے۔