گوگل کا انکوگنیٹو موڈ اتنا بھی محفوظ نہیں جتنا آپ سمجھتے ہیں

متعدد افراد گوگل کروم ویب براؤزر پر انکوگنیٹو موڈ کو یہ سمجھ کر استعمال کرتے ہیں کہ اس طرح ویب سائٹس ان کی شناخت نہیں کرسکیں گی یا یوں کہہ لیں کہ وہ اپنے نیٹ ورک پر گمنام ہوکر کام کرسکیں گے۔

مگر یہ درست نہیں، کیونکہ انکوگنیٹو موڈ استعمال کرنے پر ابھی براﺅزر آپ کی ہسٹری، بک مارکس امپورٹ یا کسی بھی آن لائن اکاﺅنٹ کی لاگ ان تفصیلات کو ریکارڈ نہیں کرتا، مگر اس سے آپ کی شناخت نہیں چھپتی یعنی آپ کی آئی پی ایس اور دیگر ڈیٹا اوپن کی جانے والی ویب سائٹ میں محفوظ ہوجاتا ہے۔

اور یہی وجہ ہے کہ اب گوگل کو انکوگنیٹو موڈ کے دوران صارفین کے انٹرنیٹ ڈیٹا کو اکٹھا کرنے پر مقدمے کا سامنا ہے۔

امریکا کی ایک عدالت نے الفابیٹ کارپوریشن کی جانب سے انکوگنیٹو موڈ پر ڈیٹا اکٹھا کرنے کے حوالے سے دائر مقدمے کو خارج کرنے کی درخواست مسترد کردی۔

کیلیفورنیا کی فیڈرل جج لوسی کو نے اپنے فیصلے میں کہا کہ گوگل کی جانب سے پرائیویٹ براؤزنگ موڈ میں ڈیٹا اکٹھا کرنے سے صارفین کو آگاہ نہیں کیا جاتا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹویٹر پر نئے فیچرز کی آزمائش

گوگل استعمال کرنے والے 3 صارفین نے جون میں عدالت میں درخواست دائر کی تھی جس میں کہا تھا کہ کمپنی کی جانب سے انکوگنیٹو موڈ میں بھی ڈیٹا ٹریکنگ بزنس کو جاری رکھا گیا ہے اور گوگل کی جانب سے براؤزنگ ہسٹری اور دیگر ویب سرگرمیوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا جاتا ہے، حالانکہ صارفین کا خیال ہوتا ہے کہ اس پرائیویٹ موڈ میں ان کے ڈیٹا کو تحفظ حاصل ہوتا ہے۔

درخواست میں مزید کہا ‘گوگل جانتا ہے کہ آپ کے دوست کون ہیں، آپ کے مشاغل کیا ہیں، آپ کیا کھانا پسند کرتے ہیں، کونسی فلمیں آپ دیکھتے ہیں، آپ کا پسندیدہ سیاحتی مقام کونسا ہے، آپ کا پسندیدہ رنگ کای ہے اور انٹرنیٹ پر جو کچھ بھی شرمناک مواد آپ براؤز کرتے ہیں، اس کا بھی گوگل کو علم ہوتا ہے، چاہے آپ کمپنی کی ہدایات کے مطابق اپنی سرگرمیوں کو پرائیویٹ ہی کیوں نہ رکھیں’۔

دوسری جانب گوگل نے عدالت میں جمع کرائے گئے جواب میں کہا تھا کہ اس کی جانب سے ڈیٹا اکٹھا کرنے کے بارے میں واضح طور پر صارفین کو آگاہ کیا جاتا ہے۔

کمپنی نے بتایا ‘گوگل نے پیج پر واضح طور پر لکھا ہے کہ انکوگنیٹو کا مطلب غائب ہونا نہیں، اس میں صارف کی سرگرمیاں ویب سائٹس کو نظر آئیں گی اور اس کا علم تھرڈ پارٹی اینالیٹکس یا اشتہاری سروسز کو بھی اس کا علم ہوگا’۔

اس سے قبل 2019 میں ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ انکوگنیٹو موڈ میں اگر صارف کسی قسم کا فحش یا پورن مواد دیکھ رہا ہے تو گوگل، فیس بک اور یہاں تک کہ اوریکل کلاﺅڈ سمیت متعدد کمپنیاں خفیہ طور پر اس کی ٹریکنگ کررہی ہوتی ہیں کہ آپ کیا دیکھ رہے ہیں۔

مائیکرو سافٹ، کارنیگی میلون یونیورسٹی اور پنسلوانیا یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیق میں 22 ہزار سے زائد پورن ویب سائٹس کا ایک ٹول کے ذریعے جائزہ لینے کے بعد دریافت کیا گیا کہ 93 فیصد پیجز صارف کو ٹریک کرتے ہوئے صارفین کا ڈیٹا تھرڈ پارٹی اداروں کو لیک کردیتے ہیں۔

محققین کے مطابق ان پورن سائٹس کی ٹریکنگ کئی بڑی کمپنیاں کرتی ہیں اور مجموعی طور پر 230 مختلف کمپنیوں اور سروسز کی شناخت ہوئی جو صارفین کو ٹریک کرتی ہیں۔

محققین کے مطابق گوگل 74 فیصد سائٹس کو ٹریک کرتی ہے، اوریکل 24 فیصد جبکہ فیس بک 10 فیصد ویب سائٹس کی ٹریکنگ کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسی بڑی کمپنیوں کی اکثریت امریکا سے تعلق رکھتی ہے اور فحش مواد والی ویب سائٹس کی پرائیویٹ پالیسیاں ایسی ہوتی ہیں جن کو سمجھنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں، تاہم ہمارے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ویب سائٹس میں مخصوص جنس کی شناخت یا صارف کی دلچسپی جیسے ڈیٹا کو لیک کیا جاتا ہے۔

محققین کے مطابق بیشتر افراد یہ نہیں جانتے کہ انکوگنیٹو موڈ صرف براﺅزنگ ہسٹری کو کمپیوٹر میں اسٹور نہیں کرتا، تاہم جن سائٹس پر صارف جاتا ہے، وہ اور تھرڈ پارٹی ٹریکرز صارف پر نظر رکھ آن لائن اقدامات کو ریکارڈ کرسکتے ہیں۔فحش مواد کو دیکھنے والوں کا ڈیٹا اشتہارات دکھانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے یا کیا جاتا ہے۔