جاپانی سائنسدانوں کا کارنامہ “قلمی ٹماٹر” بھی مارکیٹ میں آگیا

ٹوکیو : جاپان کی وزارت صحت نے جنیاتی طور پر تیار کیے جانے والے ٹماٹر کی فروخت کی منظوری دے دی، ٹماٹر میں ایسے کوئی جینز نہیں ہیں جو قدرتی اقسام کے ٹماٹر سے مختلف ہوں۔ جاپانی وزارتِ صحت کے ماہرین کے ایک پینل نے ملک کے پہلے جنتیاتی کانٹ چھانٹ کے حامل ٹماٹر کی فروخت کی اجازت دے دی ہے۔ یہ ٹماٹر یونیورسٹی آف تسُوکُوبا اور ایک بائیو ٹیک کمپنی نے مشترکہ طور پر تخلیق کیا ہے۔

پینل نے گزشتہ روز ایسے ٹماٹر کی فروخت کی درخواست منظور کی ہے جس کے جینیاتی سیٹ میں رد و بدل کرکے اسے گابا نامی امینو ایسڈ زیادہ مقدار میں پیدا کرنے کے قابل بنایا گیا ہے، اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ یہ بلڈ پریشر کم کرنے میں معاون ہے۔

پینل کا کہنا ہے کہ ٹماٹر میں ایسے کوئی جینز نہیں ہیں جو قدرتی اقسام کے ٹماٹروں سے مختلف ہوں۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ جینیاتی کانٹ چھانٹ سے الرجی پیدا کرنے والے عناصر یا زہریلے مادوں کی مقدار میں بھی کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے۔ گزشتہ سال متعارف کرائے گئے ایک ضابطے کے تحت، جینیاتی طور پر کانٹ چھانٹ کرکے تیار کردہ فوڈ کو حکومت کو درخواست دینے کے بعد اُس صورت میں فروخت کیا جا سکتا ہے جب ماہرین کا پینل اس نتیجے پر پہنچے کہ مذکورہ خوراک کو کسی تحفظاتی معائنے کی ضرورت نہیں ہے۔

اس کے برعکس جینیاتی طور پر تبدیل شدہ ایسی خوراک کی فروخت کے لیے فوڈ سیفٹی کمیشن کا معائنہ پاس کرنا لازمی ہے جس میں دیگر جانداروں کی جینز شامل ہوں۔ ذرائع کے مطابق بائیو ٹیک کمپنی نے گزشتہ روز درخواست جمع کرائی تھی، اس کا کہنا ہے کہ جینیاتی کانٹ چھانٹ کی حامل خوراک پر یہ تمام معلومات چسپاں کی جائیں گی۔