انٹرنیٹ براؤزر کا استعمال خطرے سے خالی نہیں، صارفین کے لیے خوفناک خبر

سان فرانسسکو: ٹیکنالوجی پر نظر رکھنے والے سائبر سیکیورٹی کے ماہرین نے مائیکروسافٹ کے انٹرنیٹ براؤزرز استعمال کرنے والے صارفین کو بڑے خطرے سے خبردار کردیا۔ دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں سے ایک کمپنی مائیکرو سافٹ کے سائبر سیکیورٹی ماہرین نے انٹرنیٹ براؤزر کے وائرس سے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کردیا۔

مائیکروسافٹ ماہرین کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں برس مئی اور اگست میں ہیکرز نے ’ڈبڈ ایڈروز‘ Dubbed Adroze نامی وائرس کی مدد سے حملے کیے اور کئی صارفین کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہیکرز نے مئی سے شروع کیے جانے والے حملوں کا سلسلہ تین ماہ تک جاری رکھا، اس دوران لاکھوں کی تعداد میں مخصوص وائرس یا اُس کی فیملی (متعلقہ وائرسز ) کے حملوں میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا۔

مائیکروسافٹ کی تحقیقی ٹیم کے مطابق ’یہ وائرس خود بہ خود کمپیوٹر میں انسٹال ہوجاتا ہے اور کمپیوٹر کی ہارڈ ڈسک کے مختلف حصوں میں اپنے فولڈر بنا دیتا ہے، سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ یہ وائرس عام پروگرام کی طرح نظر آتے ہیں جن کی مدد سے رسائی اور ڈیٹا تک رسائی حاصل کی جاسکتی ہے‘۔ تحقیقی ٹیم کے مطابق اگر کسی کمپیوٹر میں یہ وائرس انسٹال ہوجائے تو پھر کوئیک آڈیو ڈاٹ ایگزی، آڈیو لاوا ڈاٹ ایگزی اور کنورٹرڈاٹ ایگزی کے نام سے فائلز نظر آتی ہیں، جو دراصل آپ کے ڈیٹا کی دوسروں کو رسائی دے رہی ہوتی ہیں۔

تحقیقی ماہرین کے مطابق یہ وائرس اینٹی وائرس کی پکڑ میں اس لیے نہیں آتے کیونکہ ونڈوز سروس میں موجود فائلوں کے نام کے ہوتے ہیں۔nماہرین کے مطابق گوگل کروم, فائر فوکس اور دیگر انٹرنیٹ براؤزر استعمال کرنے والے صارفین اس وائرس کو انجانے میں اپنے کمپیوٹر میں انسٹال کرلیتے ہیں، جس کے بعد یہ ایکسٹینشنز میں شامل ہوکر کمپیوٹر کی میموری میں داخل ہوجاتے ہیں۔

تحقیقی ماہرین نے مشورہ دیا کہ اگر کسی کے سسٹم میں درج بالا ناموں کی فائلیں ظاہر ہوں تو وہ فوری طور پر اپنے کمپیوٹر کو فارمیٹ کر کے نئی ونڈوز انسٹال کرے تاکہ کسی بھی نقصان سے محفوظ رہا جاسکے۔