معذور افراد کے لیے پاکستانی موبائل ایپ متعارف

قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر نے کہا ہے کہ معذور افراد کو معاشرے کا حصہ بناکر ان کی صلاحیتوں کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے افراد کو ڈیجیٹل طریقے سے معاشرے کا حصہ بن کر سماجی معاشی سرگرمیوں میں اپنا حصہ بانٹ سکتے ہیں۔ انہوں نے ایسے افراد کی رجسٹریشن کی ضرورت پر زور دیا تاکہ اس ڈیٹا سے موثر پالیسی سازی میں مدد مل سکے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس میں موبائل ایپ ‘ایکول ایسسز’ کو متعارف کراتے ہوئے کیا، جس کا مقصد معذور افراد اور ان کے لیے دستیاب سروسز کے درمیان خلا میں کمی لانا ہے اسد قیصر نے اس ایپ کی تیاری کے حوالے سے اسپیشل ٹیلنٹ ایکسچینج پروگرام (ایس ٹی ای پی)، برٹس کونسل اور پاکستان کمیونیکشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی کوششوں کو سراہا۔ ان افراد کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانون کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پارلیمان کے اراکین معذوری کے شکار افراد کے ساتھ کھڑے ہوں گے تاکہ انہیں معاشرے کے تعمیراتی اراکین کے طور پر شامل کیا جاسکے اور اس مقصد کے لیے موثر پالیسی، قانون سازی اور عملدرآمد پر نظر رکھی جائے گی۔

ایس ٹی ای پی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر علی شیخ نے اس بات پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس ایپ کی تیاری کے لیے مواد کا حصول ذاتی تجربات اور ملک بھر میں متعدد برادریوں کے ساتھ براہ راست کرکے ممکن بنایا گیا۔ برٹش کونسل کے ڈپٹی ڈائریکٹر مارک کروسے نے بتایا کہ ایکول ایسسز کی تیاری کئی اسٹیک ہولڈرز کی شراکت داری سے ممکن ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اس مقصد کے لیے کام جاری رکھیں گے تاکہ مستحکم ترقی کے مقصد کا حصول یقینی بنایا جاسکے۔ ایس ٹی ای پی کی پراجیکٹ ڈائریکٹر ابیہ اکرم جو خود معذور ہیں، نے برٹش کونسل اور پی ٹی اے کے اشتراک اور تعاون کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی مہم دنیا کے متعدد ترقی پذیر ممالک میں اہم ثابت ہوئی۔ پی ٹی اے چیئرمین میجر جنرل ریٹائرڈ عامر عظیم باجوہ نے برٹش کونسل اور ایس ٹی ای پی کی موبائل ایپ کی تیاری میں تعاون کو سراہا۔ بعدازاں ایپ کے فیچرز کو بیان کرتے ہوئے ایس ٹی ای پی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نے بتایا کہ اپلیکشن سے قابل رسائی فارمیٹس بشمول سائن لینگوئج کے ترجمے، آواز کے ذریعے وضاحت، ڈارک موڈ اور ری سائز ایبل ٹیکسٹ فارمیٹس قابل ذکر ہیں۔ ایکول ایسسز برٹس کونسل کے آواز 2 پروگرام کا حصہ ہے، جو خیبرپختونخوا اور پنجاب کی مقامی برادریوں کے لیے تیار کیا گیا 5 سالہ منصوبہ ہے، تاکہ وہاں بچوں، خواتین، نوجوانوں اور دیگر استحصال زدہ گروپس بشمول معذور افراد کو معاشرے میں آگے لایا جاسکے۔