اسٹینفرڈ یونیورسٹی کے 2 فیصد ممتاز سائنسدانوں میں سیکڑوں پاکستانی شامل

اسٹینفرڈ: اسٹینفرڈ یونیورسٹی کے ماہرینِ شماریات نے ایک لاکھ سے زائد سائنس دانوں کی فہرست جاری کی ہے جس میں سیکڑوں پاکستانی بھی شامل ہیں، یہ افراد اپنے تحقیقی مقالہ جات کے سبب ان دو فیصد بہترین سائنس دانوں میں شامل ہیں جو کئی حوالہ جاتی اشاریوں (انڈیکسنگ) سے سامنے آئے ہیں۔

اسٹینفرڈ پری وینشن ریسرچ سینٹر کے پروفیسر جان پی اے لونیڈیس، کیون ڈبلیو بویاک اور جیریون باس نے یہ فہرست مرتب کی ہے۔ اس میں انہوں نے سائنس داں کی تحقیق کو بہتر انداز میں بیان کرنے والے اشاریوں پر بات کی ہے جن میں انہوں نے سیلف سائٹیشن، ایچ انڈیکس، مختلف حوالہ جات، ایچ ایم انڈیکس سمیت دیگر کئی عوامل کو شائع کرکے بہتر انداز میں بھرپور ڈیٹا پیش کیا ہے۔

مثلاً زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے ڈاکٹر نبیل نیازی کے شعبے میں دنیا بھر میں 66 ہزار سے زائد سائنس داں شامل ہیں اور ڈاکٹر نبیل کا نمبر 1000 کے لگ بھگ ہے۔ اس طرح وہ دو فیصد ایسے سائنس دانوں میں شامل ہیں جن کے کام کا دیگر ماہرین نے حوالہ دیا ہے اور اس طرح سے عالمی ماہرین کی تحقیق کو ناپا گیا ہے۔
ڈیٹا مرتب کرنے والے ماہرین نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں سائنسی تحقیق کے حوالہ جات کو غلط انداز میں بھی بیان کیا جاتا ہے اور اس تحقیق کا مقصد اس غلط رجحان کو روکنا تھا۔ اس فہرست میں سال 2017ء، 2018ء اور 2019ء کے حوالے بھی پیش کیے گئے ہیں اور اسی ڈیٹا شیٹ کو دیکھ کر ایکسپریس نے پاکستانی سائنسدانوں کے نام جمع کیے ہیں۔

اس لیے درج ذیل فہرست میں جن ماہرین کے نام شامل ہیں ان کا کام درج ذیل تین برس میں کسی نہ کسی سال بہت اہمیت اختیار کرچکا تھا لیکن ایک اور شعبہ بھی ہے جس میں سائنس دانوں کے پورے کیرئیر اور کمپوزٹ سائٹیشن انڈیکس کو بھی مدِ نظر رکھا گیا ہے۔

اس فہرست میں سائنس دانوں کے کام کو 22 مرکزی اور 176 ذیلی شعبوں یا زمروں میں بانٹا گیا ہے۔ ہر محقق کے کم سے کم 5 تحقیقی مقالہ جات کو مدِ نظر رکھا گیا اور 2019ء کے آخر تک ان کے پورے تحقیقی کیریئر کو سامنے رکھا گیا ہے۔ یہ رپورٹ اس سال 6 مئی کو لکھی گئی جو اپنے اپنے شعبے کے دو فیصد بہترین ماہرین کو ظاہر کرتی ہے۔
محمد اسلم نور، ایس اے شہزاد، محمد عمران، مظہرعلی، محمد قاسم ، ندیم جاوید، محمد شفیق، محمد آصف ظہور راجہ، غلام عباس، خالدہ عنایت نور، محمد عثمان، حیات اختر، محسن حسن اور محمد نوشاد۔

سید ندیم، مسعود خان، عامرسعید، اے جی خان، طارق محمود، رفعت نسیم ملک، محمد اقبال، رحمت علی خان، محمد وقاص، محمد اعجاز خان، ایف ایم عباسی، ایم وائے ملک، زیڈ یوسف، عبدالغنی خان، ضابطہ خان شنواری، قیصر عباس نقوی، محمد راشد خان، ایم عرفان، عبدالحق، افضل شاہ، سمیرا قیوم،آر الٰہی احمر علی شاہ، مشتاق احمد، محمد زمان اور دیگر شامل ہیں۔

جامعہ کراچی

ڈاکٹر عطا الرحمان، اقبال چوہدری، ڈاکٹر بینا شاہین صدیقی، ڈاکٹر درخشاں حلیم، خالد محمود خان، عبدالحمید، نجیب عالم خان جبکہ ہیلوفائٹس پر قابلِ قدر کام کرنے پر سابق شیخ الجامعہ محمد اجمل خان مرحوم کا نام بھی شامل ہے۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد

محمد اشرف، غلام مرتضیٰ، اشفاق احمد، محمد اصغر، حق نواز بھٹی، نبیل نیازی، احمد سعید، محمد ابراہم راجوکا، شکیل احمد انجم، صادق مسعود بٹ، ظاہر احمد، کنول رحمان، صدام حسین اور محمد نوید۔ نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) ایم مصطفیٰ، محمد عمران، فیصل شفاعت، شفقت حسین، نورین اکبر شیر، مبشر جمیل اور ٹی ایم مصطفیٰ۔

آغا خان میڈیکل یونیورسٹی ذوالفقار بھٹہ، ریحانہ اے سلام، انوار الحسن گیلانی، خبیراحمد، مسٹرڈ فریزر، انیتا زیدی اور جے کے داس۔ محمد شریف، مشتاق احمد، محمد اکرم، محمد یونس، عائشہ کوثر، خالد محمود، محمد یونس اور صائمہ ارشد۔

احمد مختار، منہاج احمد خان، سید توصیف محی الدین، عبدالوحید، محمد عمران قادراور مبشر حسین۔