ہم نے ’ترقی یافتہ خلائی مخلوق‘ کے ریڈیوسگنلز دریافت کرلیے، سائنسدانوں کا بڑا دعویٰ

لاس اینجلس: امریکی سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے دور خلاء سے آنے والے ایسے ریڈیو سگنل دریافت کرلیے ہیں جو کسی ذہین خلائی مخلوق کی جانب ہی سے ہوسکتے ہیں۔ سادہ الفاظ میں اس دعوے کا مطلب یہ ہے کہ ترقی یافتہ خلائی مخلوق نے انسان سے رابطے کےلیے ریڈیو سگنل بھیجے ہیں۔

یہ تحقیق یونیورسٹی آف کیلفیورنیا لاس اینجلس (یو سی ایل اے) اور گرین بینک آبزرویٹری، ویسٹ ورجینیا کے 40 ماہرین پر مشتمل ایک وسیع ٹیم نے کی ہے جو آج ہی ’’آرکائیو ڈاٹ آرگ‘‘ پر شائع ہوئی ہے جبکہ فلکیات کے مستند تحقیقی جریدے ’’ایسٹرونومیکل جرنل‘‘ میں اشاعت کےلیے منظور بھی ہوچکی ہے۔ یہ اہم اور غیرمعمولی اعلان سورج جیسے 31 ستاروں کی سمت سے آنے والے کروڑوں ریڈیو سگنلوں کو کھنگالنے، اور ان میں سے ’’غیر قدرتی‘‘ (non-natural) محسوس ہونے والے سگنلوں کا مزید تفصیلی اور محتاط تجزیہ کرنے کے بعد کیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ تمام ستارے ہمارے سورج جیسے ہیں مگر ہم سے ان کا فاصلہ 327 نوری سال سے لے کر 10407 نوری سال تک ہے۔ (نوری سال یا ’’لائٹ ایئر‘‘ سے مراد وہ فاصلہ ہے جو روشنی ایک سال میں اپنی تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے طے کرتی ہے۔)

واضح رہے کہ ہم کائنات میں اب تک زمین کے علاوہ کسی بھی دوسری جگہ ’’زندگی‘‘ دریافت نہیں کرسکے ہیں لیکن سائنسی بنیادوں پر ماہرین کا مفروضہ ہے کہ صرف ہماری اپنی کہکشاں ’’ملکی وے‘‘ میں زمین جیسے لاکھوں سیاروں پر زندگی موجود ہوسکتی ہے۔ حال ہی میں لگائے گئے محتاط ترین اندازوں کے مطابق، سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ہماری کہکشاں میں کم از کم 36 سیاروں پر ہم انسانوں جیسی ’’ذہین اور ترقی یافتہ مخلوقات‘‘ موجود ہوسکتی ہیں جنہوں نے اتنی ترقی کرلی ہوگی کہ وہ ریڈیائی اشاروں (ریڈیو سگنلز) کے ذریعے رابطوں کے قابل ہوچکی ہوں گی۔ بتاتے چلیں کہ قدرتی ذرائع سے پیدا ہونے والے ریڈیو سگنل ایک مخصوص اور لگے بندھے انداز کے ہوتے ہیں جبکہ مصنوعی ذرائع (یعنی انسان یا کسی اور ترقی یافتہ خلائی مخلوق) کی ’’غیر قدرتی‘‘ سرگرمیوں سے پیدا ہونے والے ریڈیو سگنل ان سے بہت مختلف ہوتے ہیں۔

مطلب یہ کہ اگر دُور خلاؤں میں کوئی ذہین خلائی مخلوق موجود ہے تو وہ ہمارے سورج کی سمت سے آنے والے اِن غیر قدرتی ریڈیو سگنلوں کا تجزیہ کرکے بہ آسانی یہ معلوم کرلے گی کہ سورج کے گرد کسی سیارے پر کوئی ایسی مخلوق بھی موجود ہے جس کی سرگرمیوں سے یہ ریڈیو سگنل خارج ہورہے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح ہم بھی کسی دُور دراز سیارے پر ترقی یافتہ خلائی مخلوق کی موجودگی کا سراغ اس کی طرف سے آنے والے ’’غیر قدرتی‘‘ ریڈیو سگنلوں کی بنیاد پر لگا سکتے ہیں جنہیں ماہرین ’’ٹیکنو سگنیچرز‘‘ (techno-signatures) کا نام دیا ہے۔

’’گرین بینک آبزرویٹری‘‘ کو دنیا کی طاقتور ترین ریڈیو دوربینوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ماہرین نے 2018 اور 2019 میں اس دوربین کے ذریعے خلا سے آنے والے کھربوں ریڈیو سگنلز ریکارڈ کیے اور مختلف جدید تکنیکیں اختیار کرتے ہوئے ان کا جائزہ لیا تاکہ ان میں سے قدرتی اور ممکنہ طور پر غیر قدرتی سگنل الگ کیے جاسکیں۔ اس دوران سورج جیسے 31 ستاروں کی طرف سے آنے والے 26,631,913 ریڈیو اشاروں (سگنلز) کو ’’امیدواروں‘‘ کے طور پر نشان زد کرتے ہوئے مزید تجزیئے کےلیے الگ کرلیا گیا۔

مزید تفصیلی اور محتاط تجزیہ مکمل ہونے پر ان میں سے بھی 4539 ریڈیو سگنل ایسے معلوم ہوئے جو ’’ٹیکنو سگنیچرز‘‘ کی شرائط پر پورے اترتے تھے۔ مزید ایک سال تک جاری رہنے والی نظرِ ثانی پر ان میں سے 99.73 فیصد سگنلز کو ’’درست طور پر شناخت کیے گئے ٹیکنو سگنیچرز‘‘ قرار دیا گیا۔ یہ بلاشبہ اپنی نوعیت کا بہت غیرمعمولی اعلان ہے اور بجا طور پر یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ آنے والے دنوں میں ’’خلائی مخلوق موجود ہے یا نہیں؟‘‘ کے پرانے موضوع پر نئی اور گرما گرم بحث شروع ہوجائے گی۔